عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا نیا پروگرام طویل مدتی کے بجائے قلیل مدتی تجویز کرتے ہیں۔آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کے حوالے سے واشنگٹن میں پاکستانی اقتصادی ٹیم کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے حکام نے طویل پروگرام کے بجائے مختصر مدت کے پروگرام کا مشورہ دیا تھا۔
حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستانی اقتصادی ٹیم نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کے اقتصادی حکام سے غیر رسمی مشاورت کی ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے پاکستانی اقتصادی ٹیم کو مشورہ دیا ہے کہ ٹیکس نظام کو ڈیجیٹائز کیا جائے اور ہر قسم کی ریلیف ختم کیا جائے۔
مزید پڑھیں: تجارتی خسارے کے اعداد و شمار جاری ،مارچ میں پاکستانیوں نے 4 ارب ڈالرز سے زائد کی اشیا منگوائیں، سٹیٹ بینک
بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے بھی مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے سرکاری کمپنیوں کی تیزی سے نجکاری کی تجویز دی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے تجویز دی ہے کہ سرکاری کمپنیوں کی نجکاری کی بنیاد پر کی جائے، جبکہ خسارے میں چلنے والی سرکاری کمپنیوں کا انتظام نجی شعبے کے حوالے کیا جائے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے زراعت، ٹیکسٹائل، معدنیات، سیاحت اور آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے غیر ضروری سرکاری محکموں کے خاتمے اور دیگر میں چھانٹی کا مشورہ دیا ہے۔
