اسلام آباد(نیوزڈیسک)ماہرین صحت نے تمباکو کی صنعت کی طرف سے بیرون ملک ایکسپورٹ کرنے کے بہانے سے 10 اسٹک والے سگریٹ کے پیک کی تیاری کے لیے منظوری حاصل کرنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔
مقامی این اجی اوکی طرف سے جاری پریس ریلیز میں سماجی کارکنان نے ملک بھر میں بچوں اور کم آمدنی والے گروہوں پر اس کے ممکنہ اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
ماہر صحت ملک عمران احمد نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو کی صنعت برسوں سے سنگل سٹکس کی فروخت پر پابندیکی خلاف ورزی کر رہی ہے، جو نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے روکنے اور کمزور آبادی کے تحفظ کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔ تمباکو کمپنیوں کی جانب سے ایکسپورٹ کی آڑ میں 10 اسٹک پیک تیار کرنے کے لیے کی جانے والی حالیہ کوششیں، صحت عامہ اور پاکستانی نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم خطرہ ہیں کیونکہ تمباکو کمپنیوں کا اصل مقصد ان کو نوجوانوں کو بیچنا ہے جو زائدہ اسٹک والی پیکٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمباکو کی صنعت نے ماضی میں بھی ایسی ہی کوششیں کی تھیں لیکن وزارت صحت نے این او سی جاری نہیں کیا۔ تمباکو کی صنعت کی طرف سے 10 اسٹک پیک کے لیے درخواست انتہائی پریشان کن ہے۔ اس سے نہ صرف تمباکو کے کنٹرول میں ہونے والی پیش رفت کو نقصان پہنچے گا بلکہ ان بچوں اور کم آمدنی والے افراد کو بھی براہ راست نشانہ بنایا جائے گا جو تمباکو کے استعمال کے مضر اثرات کا سب سے زیادہ خطرہ ہیں۔
ایک اور ماہر صحت ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدام کے پاکستان میں صحت عامہ کی کوششوں پر مضر اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی مارکیٹ میں 10 اسٹک پیک کی فروخت کی اجازت دینے سے تمباکو کے استعمال کے پھیلاؤ کو کم کرنے اور اس کے نقصان دہ اثرات کے بارے میں آگاہی بڑھانے میں کی گئی پیشرفت رک جائے گی۔ یہ قدام ٹیکس اور ریگولیشن کے ذریعے تمباکو کے استعمال کو روکنے کی حکومتی کوششوں سے براہ راست متصادم ہے۔
صحت کے کارکنوں نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ 10 اسٹک پیک کی تیاری یا فروخت کی اجازت نہ دے اور تمباکو کی صنعت کے ذریعے بچوں اور کم آمدنی والے گروہوں کے استحصال کو روکے۔ انہوں نے موجودہ ضوابط کو سختی سے نافذ کرنے اور صحت عامہ کے تحفظ کے عزم پر زور دیا۔
