اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا نجی اسپتال میں تفصیلی میڈیکل چیک اپ ہوا، ان کے مکمل ٹیسٹ لئے گئے ،میڈیکل رپورٹس میں ڈاکٹرز نے انہیں کلیئر قرار دے دیا، بشریٰ بی بی کے ای کو اور ای سی جی ٹیسٹ بھی کئے گئے ، بلڈ پریشر بھی چیک کیا گیا، حیران کن طور پر بشریٰ بی بی نے خون کا نمونہ دینے سے انکار کیا جس کی کوئی وجہ نہ تو ان کے وکلا کی جانب سے بتائی گئی ہے اور نہ ہی ڈاکٹرز نے اس پر کوئی بات کی ہے ۔ ڈاکٹرز کے مطابق بشریٰ بی بی کو گیسٹرو کا معمولی مسئلہ ہے ، انہیں چار ہفتے کی ادویات تجویز کی گئی ہیں اور سات دن بعد ان کا دوبارہ فالو اپ چیک ہوگا ، بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل حکام نے بنی گالہ سب جیل سے انتہائی سخت سکیورٹی میں آئی ایٹ سیکٹر میں واقع بڑے نجی اسپتال الشفا لایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا ، ان کے مختلف ٹیسٹ لئے گئے جن کی رپورٹ باضابطہ طور پر جاری کردی گئی ہیں ،ای کو کارڈک ٹیسٹ بھی لیا گیا تاہم بشریٰ بی بی کا بلڈ پریشر زیادہ بتایا گیا ہے ،ان کا بلڈ پریشر معمول سے زیادہ تھا ،کاڈیالوجی ڈیپارٹنمنٹ میں بھی ان کے ٹیسٹ نارمل قرار دیے گئے ہیں اور بشریٰ بی بی کا نام بشریٰ عمران خان اور ان کی عمر 53سال 8ماہ اور 4دن لکھی گئی ہے ۔میڈیکل رپورٹ اسپتال کے ٹیکنالوجسٹ شہناز صابر کی طرف سے جاری کی گئی ہے اور اس میں اسپتال میں مہر بھی چسپاں کی گئی جبکہ انڈوسکوپی کی رپورٹ پر ڈاکٹر مسلم عتیق کے بھی دستخط ہیں ۔
مزیدپڑھیں:زہر کا خدشہ، بشریٰ بی بی کی طبی معائنے سے متعلق درخواستیں منظور ،عدالت نے بڑا حکم جاری کر دیا
واضح رہے کہ اس سے قبل 17 اپریل کو اسی عدالت میں ہونے والی سماعت کے بعد بانی پی ٹی آئی نے جج ناصر جاوید رانا سے مکالمہ کیا تھا کہ میری بیوی کی طبعیت خراب ہے، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اینڈوسکوپی ٹیسٹ نہیں کروایا جارہا، 6 سال سے میری بیوی بیمار نہیں ہوئی، 4 ہفتے سے بیمار ہے، مکمل طبی معائنہ نہیں ہو رہا، میری بیوی کی صحت کا معاملہ سیریس ہے، اس کے ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا جائے۔


