کراچی(ویب ڈیسک)سندھ حکومت اور ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی (ڈی ایچ اے) کے درمیان زمین کا تنازع حل ہوگیا، ڈی ایچ اے نے سپریم کورٹ میں زمین سے متعلق اپیل واپس لے لی۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ حکومت اور ڈی ایچ اے کے درمیان زمین سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
جہاں ڈی ایچ اے نے لینڈ یوٹلائزیشن سندھ کے خلاف سپریم کورٹ میں زمین سے متعلق اپیل واپس لینے کا بتایا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ یہ پبلک پراپرٹی کا معاملہ کیس کیسے واپس لے سکتے ہیں؟ جس پر وکیل ڈی ایچ کا کہنا تھا کہ مجھے کیس واپس لینے کے لیے ہدایت جاری کی گئی ہیں، مسلہ حل ہوگیا ہے۔
جسٹس جمال مندوخل نے استفسار کیا کہ اتنی بڑی رقم ہے، معاملہ کیسے طے ہوا؟ کیا ڈی ایچ اے نے سندھ حکومت کو پیسے دیے ؟ جب ریونیو بورڈ کا دعویٰ کروڑوں روپے کا تھا تو سیٹلمنٹ کیسے ہوئی یہ بتائیں، جس پر سندھ حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ 2011 میں سندھ ہائیکورٹ نے ڈی ایچ اے کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔
مزیدپڑھیں :چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے 2 سول ججز کو نوکری سے برطرف کردیا
ڈی ایچ اے کے وکیل کا کہنا تھا کہ 2 کروڑ 82 لاکھ 97 ہزار کی ادائیگی کی گئی، ملیر ریور پروٹیکشن آرڈیننس کے نام پر زمین کا قبضہ ڈی ایچ اے سے لیا گیا، سندھ حکومت نے 282 ایکڑ متبادل زمین دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
جسٹس جمال مندوخل نے استفسار کیا کہ اتنی بڑی رقم ہے، معاملہ کیسے طے ہوا؟ کیا ڈی ایچ اے نے سندھ حکومت کو پیسے دیے ؟ جب ریونیو بورڈ کا دعویٰ کروڑوں روپے کا تھا تو سیٹلمنٹ کیسے ہوئی یہ بتائیں، جس پر سندھ حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ 2011 میں سندھ ہائیکورٹ نے ڈی ایچ اے کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔
ڈی ایچ اے کے وکیل کا کہنا تھا کہ 2 کروڑ 82 لاکھ 97 ہزار کی ادائیگی کی گئی، ملیر ریور پروٹیکشن آرڈیننس کے نام پر زمین کا قبضہ ڈی ایچ اے سے لیا گیا، سندھ حکومت نے 282 ایکڑ متبادل زمین دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
بعد ازاں ڈی ایچ اے کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لے لی، عدالت نے ڈی ایچ اے کی جانب سے درخواست واپس لینے کی استدعا منظور کرلی۔
واضح رہے کہ ڈی ایچ اے نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
