Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

آئین کی بحالی کیلئے اپوزیشن جماعتوں کاملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ

حکومت مخالف اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں آئین کی بحالی کے لیے ملک گیر مہم چلانے اور فیصل آباد، کراچی میں جلسوں کے لیے انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اسد قیصر، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا، بی این پی مینگل کے رہنما ساجد ترین اور ثناء اللہ بلوچ، ایم ڈبلیو ایم کے ناصر شیرازی اور تحریک کے ترجمان نے بھی شرکت کی۔ آئین پاکستان کے تحفظ میں اخونزادہ حسین یوسفزئی شریک تھے۔

مزید پڑھیں:  آئی ایم ایف کاپاکستان سے توانائی کے شعبے میں فوری اصلاحات کا مطالبہ

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں آئین توڑنے والوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ اجلاس میں گوادر میں دہشت گردی کے واقعے میں 7 بے گناہ افراد کی شہادت اور لاہور ہائی کورٹ بار کے وکلاء پر وحشیانہ تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کی گئی۔ میں نے کسانوں کے ساتھ ناروا سلوک کی بھی شدید مذمت کی۔

ترجمان پاکستان تحریک تحفظ عین پاکستان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا اتحاد کسانوں کے مطالبات کے حق میں ہے۔

اپوزیشن اتحاد کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات ہمارا آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے، ہم اسے بہر صورت کریں گے، ملک میں جمہوریت ختم ہو رہی ہے اور آئین کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے، ہماری تحریک آئین کی بحالی تک جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں