ملک میں سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری کی وجہ سے سالانہ 300 ارب سے زائد کا نقصان ہوا۔
ملک میں 165 برانڈز کے سگریٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے سٹیمپ کے بغیر فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: میزان بینک کی طرف سےمئی 2024 کیلئےہونڈا موٹرسائیکلCG 125 کا تازہ ترین قسط کا منصوبہ
بین الاقوامی تنظیم اپسس پاکستان کی جانب سے جاری کردہ سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 104 سگریٹ برانڈز حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم قیمت سے کم پر فروخت ہو رہے ہیں۔
سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری کی وجہ سے سالانہ 300 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔ رواں مالی سال کے اختتام تک سگریٹ کی غیر قانونی تجارت کا حجم 56 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔

