اسلام آباد (نیوزڈیسک)آئندہ مالی سال کے لیے پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ سے پہلے خفیہ گروپ سرگرم ہو گیا ہے اور شاہراہ دستور سمیت دارلحکومت کی اہم شاہرات پر بےنامی بینرز لگانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 16 مئ 2024 کو ڈائریکٹرڈائریکٹوریٹ آف میونسپل ایڈمنسٹریشن( ڈی ایم اے) کو شاہراہ دستور، بلیو ایریا، سیکٹر ایف سکس، سیکٹر ایف سیون اور سیکٹر جی سکس میں تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہم کے لیے چار سو بینرز کی منظوری کی درخواست جمع کروائی گئی جبکہ آگاہی پیغامات کے برعکس بینرز پر وزیر اعظم شہباز شریف کی تصویر کے ساتھ سگریٹوں پر ٹیکس اضافے کا مطالبہ کیا گیا اور اس کے فوائد بتائے گئے ۔
ذرائع کے مطابق درخواست ماسٹر مائنڈ نامی کمپنی کی جانب سے جمع کروائی گئی جو ملائیشیا کے دارلحکومت کوالالمپور میں کاروبار کرتی ہے جبکہ لیٹر ہیڈ پر فارم ہاؤس چک شہزاد کا ایڈریس مقامی دفتر کے طور پر لکھا گیا ۔
مذکورہ ئیے گئے پتہ پر اس نام کی کی کسی کمپنی کے دفتر کا وجود ہی نہیں۔
انتہائی چالاکی سے کچھ خفیہ عناصر نے ڈی ایم اے افسران کو چکمہ دے کر شاہراہ دستور سمیت ریڈ زون کے ارد گرد سیکڑوں بےنامی بینرز لگوا دیئیے جبکہ بینرز کو سرکاری کمپین کا رنگ دینے کے لیے ان کا رنگ بھی سرکاری سبز رکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس جعل سازی کا مقصد مثبت کام کی آڑ میں ایف بی آر کے پالیسی ساز افسران پر بلاواسطہ پریشر ڈالنا تھا تاکہ آنے والے بجٹ میں سگریٹوں پر ٹیکس کی شرح کو بڑھایا جا سکے۔
شاہراہ دستور سمیت اہم شاہرات پر بے نامی بینرز کو جعلی لیٹر ہیڈ استعمال کرتے ہوئے سرکاری اجازت کے ساتھ لگانے سے بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں.
معاشی ماہرین کے مطابق کچھ عناصر اپنے پوشیدہ مالی فوائد کے لیے تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہم کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
بجٹ سے پہلے جعل سازی سے اہم شاہرات پر پالیسی سازی پر اثرانداز ہونے کے لیے بے نامی بینرز لگوانے سے یہ عناصر بری طرح بے نقاب ہو گئے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق کسی اعلی افسر کی سفارش پر اس بینر کمپین کی فوری اجازت دی گئی تھی۔ اس لیے تمام جعل سازوں کومعلوم ہونے کے باوجود ڈی ایم اے کے افسران اس پر پرسرارخاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں.
بینرزدرج ذیل تحریروں کے ساتھ آویزاں کئے گئے ہیں ۔
