Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

کم سے کم تنخواہ 37 ہزار روپے، قومی اسمبلی میں بجٹ 25-2024 پیش کیا جارہا ہے

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب وفاقی حکومت کا سالانہ بجٹ 25-2024 پیش کر رہے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ایوان زیریں کے بجٹ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کے بعد قومی ترانے کی دھن بجائی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف بھی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل ایوان میں پہنچے اور اسی دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی۔

اپنی تقریر کے آغاز میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کے اسٹینڈ بائی معاہدہ کرنے پر اس کی تعریف کرنا ہوگی۔ اسٹیڈ بائی معاہدے سے معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوئی۔ اسٹینڈ بائی معاہدے سے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوا۔ منہگائی مئی میں کم ہو کر 12 فیصد تک آگئی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کم کیا جانا مہنگائی پر قابو پانے کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اشیاء خورد و نوش عوام کی پہنچ میں ہیں۔ آنے والے دنوں میں مہنگائی میں مزید کمی کا امکان ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا ک ہماری مالیاتی استحکام کی کوششیں ثمر آور ہو رہی ہیں، سرمایہ کار متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ نواز شریف نے 1990 کی دہائی معاشی اصلاحات کی بنیاد رکھی، شہبازشریف نے نواز شریف کے ریفارم ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلے سال جون میں آئی ایم ایف پروگرام اختیام کو پہنچا۔ نئے آئی ایم ایف پروگرام کا حصول مشکل نظر آرہا تھا، شہباز شریف نے گزشتہ سال آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹینڈ بائی معاہدہ کیا۔

انکا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کم کیا جانا مہنگائی پر قابو پانے کا ثبوت ہے۔ معیشت کی بحالی کے لیے انتھک محنت پر شہباز شریف اور اتحادی حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ زیادہ اخراجات سے مہنگائی بڑھی، پیداواری صلاحیت اور آمدن کم ہوئی۔ عالمی معاشی نظام کے ساتھ چلتے ہوئے برآمدات کو فروغ دینا ہوگا۔

حکومت کا ریونیو ٹارگٹ 12 ہزار 970 ارب مقرر
وزیر خزانہ نے بتایا کہ وفاقی حکومت کا ٹیکس ریونیو کا ٹارگٹ 12 ہزار 970 ارب روپے مقرر کیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 4 ہزار 845 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، گراس ریونیو کا ہدف 17 ہزار 815 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سکوک بانڈ، پی آئی بی اور ٹی بلز سے 5 ہزار 142 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نجکاری سے 30 ارب روپے حاصل ہونے کا ہدف ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاری اخراجات کا ہدف 17 ہزار 203 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ سود کی ادائیگی پر 9 ہزار 775 ارب روپے کے اخراجات ہوں گے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد تک اضافہ
بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گریڈ 1 سے 16 کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کی تنخواہوں میں 22 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

پینشن پر 1 ہزار 14 ارب خرچ ہوں گے
وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال 25-2024 میں پینشن پر 1 ہزار 14 ارب روپے خرچ ہوں گے۔

دفاع کیلئے 2 ہزار 122 ارب مختص
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ دفاع کےلیے 2 ہزار 122 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ملک بحرانی صورتحال سے نکل چکا
انہوں نے کہا کہ ملک بحرانی صورتحال سے نکل چکا ہے، دیرپا ترقی کے سفر کا آغاز ہوچکا ہے۔ ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے۔ اصلاحاتی منصوبے پر تمام اداروں اور عوام کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اصلاحات کے ایجنڈے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان جلد ہی پائیدار ترقی کی جانب لوٹ آئے گا۔

انکا کہنا تھا کہ نجی شعبے کو معیشت کو مرکزی اہمیت دینے کا وقت ہے۔ ماضی میں ریاست پر غیرضروری ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا گیا۔ ماضی میں حکومتی اخراجات ناقابل برداشت ہوگئے۔

صوبوں کیلئے گرانٹس اور سبسڈی
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ صوبوں کو گرانٹس کی صورت میں 1 ہزار 777 ارب روپے منتقل ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سبسڈی کی مد میں 1 ہزار 363 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اپوزیشن کے نعرے بازی

وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین کا ایوان میں شور شرابہ جاری رہا۔

سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ اپوزیشن اراکین نے بجٹ دستاویزات پھاڑ کر کاغذ ہوا میں بکھیر دیے

یہ بھی پڑھیں