Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

سہیل وڑائچ نے شہباز حکومت کے خلاف دھیمی آنچ پر کھچڑی پکنے کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں سینئر صحافی سہیل وڑائچ کی ایک کتاب لانچ ہوئی تھی، جس کا عنوان تھایہ کمپنی نہیں چلے گی۔

اِس عنوان میں کمپنی سے مراد پی ٹی آئی حکومت کو سمجھا گیا، لہٰذا اس عنوان پر خوب تنقید ہوئی۔

مقتدرہ کے ساتھ پی ٹی آئی حکومت کے مضبوط گٹھ جوڑ کے سبب اکثر لوگوں نے سہیل وڑائچ کی اس پیشگوئی کو سنجیدہ نہیں لیا اور اسے محض ان کی ذاتی خواہش قرار دیا۔

لیکن وقت نے ثابت کیا کہ کمپنی واقعی نہیں چلی، کیونکہ پھر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے اور ہم سب کے ذہنوں میں تازہ ہے۔

سیاسی راہداریوں میں گونجنے والی آوازوں سے باخبر سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے اب شہباز حکومت کے خلاف بھی دھیمی آنچ پر کھچڑی پکنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

یہ کھچڑی کہاں پک رہی ہے؟ آئیے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سہیل وڑائچ اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ اس حکومت کو کوئی بڑا سیاسی چیلنج درپیش نہیں ہے، سب مانتے ہیں کہ وزیر اعظم منہ اندھیرے جاگ جاتے ہیں اور رات ساڑھے 10 بجے تک سرکاری کام کاج میں منہمک رہتے ہیں، لیکن شہباز شریف کی ساری خوبیوں کے باوجود ‘خاص الخاص’ کو ان کی حکومت میں کئی بڑی خامیاں بھی نظر آنے لگی ہیں۔

سہیل وڑائچ کے بقول خاص الخاص کی رائے ہے کہ وزیر اعظم کی محنت و مہارت کے باوجود عوامی فلاح اور معاشی بہتری کے حق میں نتائج نہیں نکل رہے۔ اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ 4 یا 5 گھنٹے کی طویل اور بورنگ میٹنگ کے بعد کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا، فیصلے بار بار ملتوی کئے جاتے ہیں، ان میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں، خاص الخاص کہتے ہیں کہ وزیر اعظم ہر چیز کی تفصیل پوچھتے ہیں مگر فیصلہ ٹال دیتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ فیصلہ کوئی اور یا بالاتر حلقے کریں یا پھر بڑے بھائی کی طرف سے کوئی ہدایت آ جائے۔

یہ خاص الخاص کیا ہے؟ سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ کوئی غلط نہ سمجھے، خاص الخاص ‘بے وردی’ ہے، یہ بےجان ہے مگر انجان نہیں، معاملات پر کڑی نظر رکھتا ہے اس کی چھٹی حس اس قدر تیز ہے کہ آنیوالے واقعات کو پہلے سے ہی پڑھ لیتا ہے، باخبر اس قدر ہے کہ اکثر دلوں میں چھپی خفیہ باتیں بھی نکال لیتا ہے، کائیاں اتنا ہے کہ پکڑائی نہیں دیتا، بارسوخ اس قدر کہ سرکار، دربار اور بڑے سے بڑے طاقتور تک رسائی رکھتا ہے۔

خاص الخاص سمجھتا ہے کہ مقتدرہ جس قدر حمایت ن لیگی حکومت کو دے رہی ہے حکومت جواباً مقتدرہ کو اس قدر عوامی اور سیاسی حمایت دینے اور دلوانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی۔ اسکا گلہ ہے کہ نون کو گلے کا ہار بنا کر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا گیا مگر وہ مقتدرہ کی راہ کے کانٹے چننے میں ابھی تک ناکام ہے۔

سہیل وڑائچ صاحب کی یہ بات درست ہے کہ شہباز حکومت کو کوئی سیاسی چیلنج درپیش نہیں، لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ ملک کو بہت بڑا معاشی چیلنج ضرور درپیش ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مسلم لگ (ن) حکومت کے سخت فیصلے اسے سیاسی طور پر تیزی سے عوام میں غیرمقبول بناتے جارہے ہیں، اسی بات کا ذکر آگے چل کر سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں کیا۔

وہ لکھتے ہیں کہ خاص الخاص کا اعتراض ہے کہ پے در پے اجلاسوں اور دن رات کی کوششوں کے باوجود ڈیلیوری ہوتی نظر نہیں آ رہی، خاص الخاص کو یہ بھی گلہ ہے کہ نونی حکومت کا کوئی سیاسی بیانیہ نہیں، معیشت کی بحالی کا منتردرست سہی مگر جب تک معیشت کی بہتری عوام تک پہنچے گی اس وقت تک مسائل کا انبار کھڑا ہو چکا ہوگا۔ سیاسی بیانیہ ہوتا تو اپوزیشن کا کچھ توڑ ممکن تھا مگر نون کے سیاسی بیانیے کی عدم موجودگی میں اپوزیشن ہی اکیلی سیاسی میدان میں دندنا رہی ہے۔

ہم ابھی تک سمجھ نہیں پائے کہ یہ ‘خاص الخاص’ آخر ہے کیا؟ یہاں سہیل وڑائچ صاحب ایک بار پھر ہمیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ خاص الخاص کوئی بندہ نہیں نہ اس کا حکومت سے کوئی تعلق ہے، اسے میری چڑیا سمجھ لیں، فال والا طوطا کہہ لیں، لٹو خیال کر لیں یا بھنبیری جان لیں، یہ میرا وہ مخبر ہے جو مجھے ’’پارٹی اِز اوور‘‘ اور ’’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘‘ جیسی باتیں وقت سے پہلے بتا دیتا ہے، میری یہ بھنبیری منطق، خبر، تجزئیے اور ناقدانہ جائزے کے معیارات کو سامنے رکھ کر خبر نکالتی ہے۔

سہیل وڑائچ کے اِس خاص الخاص کا خیال ہے کہ فرسٹریشن بڑھ رہی ہے فیصلوں میں دیر ہو رہی ہے، ڈیلیوری نہیں ہو رہی، اسی لئے کھچڑی پک رہی ہے، معاملات نہ سدھرے تو آنے والے دنوں میں دوریاں بڑھنے لگیں گی۔

خاص الخاص کو خاص کر گلہ ہے کہ کپتان خان نے جیل میں میلہ لگایا ہوا ہے، ہر روز وہاں مقتدرہ کیخلاف منصوبہ بندی ہوتی ہے اور سیاسی حکومت نے کپتان خان کو جیل میں 8 کمرے دے رکھے ہیں۔ تنقید کا نشانہ مقتدرہ ہے حالانکہ اس کا قصور صرف نونی حکومت کی حمایت ہے لیکن مقتدرہ پر ہونے والی تنقید پر نونی خاموش رہ کر کیا پیغام دیتے ہیں؟

یہاں تک ہمیں یہ بات سمجھ آجاتی ہے کہ کھچڑی پکنے کی کیا وجوہات ہیں؟ لیکن اس سے مسلم لیگ (ن) حکومت کو کتنا خطرہ ہے؟

سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ خاص الخاص نے اپنے تبصرے کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ کھچڑی پک رہی ہے مگر چیف شیف دل کا صاف اور کومٹمنٹ کا پکا ہے وہ دو غلا نہیں ہے اس لئے کھچڑی کے نیچے آنچ کو اس کی طرف سے بڑھائے جانے کا امکان نہیں، خود نونی حکومت کو 100 فیصد یقین ہے کہ حکومت ساز کچن کا چیف شیف نہ ان کیخلاف سازش کریگا نہ اپوزیشن سے خفیہ ملاقاتیں کریگا اور نہ ہی نونی حکومت کو کبھی غیرمستحکم کرنے کی کوشش کریگا۔ اس لیے فی الحال نونی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔

لیکن بات صرف یہیں تک نہیں ہے، کالم کے اختتام پر سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ نونی حکومت نے خاص الخاص کے شکووں کا تدارک نہ کیا تو عدم اعتماد بڑھ جائیگا۔ خاص الخاص کا خیال ہے کہ شہباز شریف میں بہت لچک ہے، وہ یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ اگر انہیں گلے شکووں کا اشارہ ملا تو وہ اپنی گورننس میں بہتری لے آئیں گے۔

سہیل وڑائچ کے بقول خاص الخاص نے نوٹ کیا ہےکہ وزیر اعظم شہباز شریف حالیہ دنوں میں کبھی وزراء پر برس رہے ہیں اور کبھی بیورو کریسی پر غصہ کر رہے ہیں، کہیں وہ کرپشن کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں اور کہیں ایف بی آر کی استعداد کار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ خاص الخاص کے خیال میں یہ اصلاح احوال کی کوششیں ہیں تاکہ کھچڑی کے نیچے لگی دھیمی آنچ کا ایندھن ہی بجھا دیا جائے، نہ آگ ہو گی تو نہ دھواں ہوگا اور نہ کھچڑی مکمل طور پر پک پائے گی۔
مزیدپڑھیں :زرین خان نے سلمان کے بعد کسی بڑے اداکار کے ساتھ کام نہ ملنے پرلب کشائی کردی

یہ بھی پڑھیں