Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

وفاقی حکومت کا33 سرکاری ادارے بند،ایک لاکھ پچاس ہزارمستقل پوسٹیں ختم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (نیوزڈیسک) وفاقی حکومت نے 33 سرکاری اداروں (SOEs) کو بند کرنے، 60 فیصد خالی ریگولیٹری پوسٹوں (150,000 تک) ختم کرنے اور غیر بنیادی خدمات کی آؤٹ سورسنگ کو ایک بڑے تنظیم نو کے منصوبے کے تحت شروع کیا ہے۔ .

بزنس ریکارڈر کے مطابق پہلے مرحلے میں چھ وزارتوں پر توجہ مرکوز ، اس عمل کا مقصد وفاقی حکومت کے سائز اور لاگت کو کم کرنا ہے۔یہ تنظیم نو “کمیٹی آن رائٹ سائزنگ آف فیڈرل گورنمنٹ” کے ذریعے چلائی گئی جو جون 2024 میں وزیر اعظم شہباز شریف نے قائم کی تھی۔

کمیٹی کے اہم کاموں میں ایسے فنکشنز کی نشاندہی کرنا جو پرائیویٹ سیکٹر میں منتقل کیے جاسکتے ہیں، ان کرداروں کا تعین کرنا جو صوبائی دائرہ اختیار سے تعلق رکھتے ہیں، اور انسانی وسائل اور اثاثوں کے انتظام کے لیے ایک منصوبہ تیار کرنا۔

پہلے مرحلے میں چھ وزارتوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے: کیپٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ، انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن، آئی ٹی اور ٹیلی کام، امور کشمیر اور گلگت بلتستان، نیشنل ہیلتھ سروسز، اور اسٹیٹس اینڈ فرنٹیئر ریجنز۔

مجوزہ تبدیلیوں کے مالیاتی، ادارہ جاتی اور افرادی قوت کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کلیدی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع مشاورت کی گئی۔ عالمی بینک نے بھی ماہرانہ معلومات فراہم کیں۔

اس مرحلے کے لیے سفارشات میں 60 فیصد خالی آسامیوں کو ختم کرنا، صفائی اور پلمبنگ جیسی غیر ضروری خدمات کو آؤٹ سورس کرنا، اور تنظیم نو سے متاثرہ ملازمین کی شکایات سے نمٹنے کے لیے ایک کمیٹی کا قیام شامل ہے۔

کمیٹی نے سول سرونٹ ایکٹ میں ترامیم اور اس عمل کی حمایت کے لیے سول سروس ریفارمز کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی دی۔16 اگست 2024 کو وزیراعظم نے ان سفارشات کی منظوری دی، حتمی ہدایات 19 اگست کو جاری کی گئیں۔

اس منصوبے میں نو اداروں کا انضمام یا منتقلی اور 33 دیگر کو بند کرنا بھی شامل ہے۔ دوسرے مرحلے میں، مزید وزارتیں، بشمول کامرس، سائنس اور ٹیکنالوجی، اور نیشنل فوڈ سیکیورٹی، اسی طرح کے جائزوں سے گزریں گی۔وفاقی حکومت اس تنظیم نو کا پہلا مرحلہ دو ہفتوں کے اندر مکمل کرنا چاہتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری آج پریس کانفرنس کرینگے

یہ بھی پڑھیں