Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

قاضی فائز عیسیٰ کو دوبارہ مسلط کیا گیا تو..بانی پی ٹی آئی نے بڑی دھمکی دیدی

راولپنڈی(ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے اعتراف کیا ہے کہ 22 اگست کا جلسہ اسٹیبلشمنٹ کی درخواست پر ملتوی کیا گیا تھا۔ انہوں نے چیف جسٹس کی مدت ملازمت میں توسیع پر ملک گیر تحریک کا عندیہ بھی دے دیا۔

اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ 22 اگست کا جلسہ اسٹیبلشمنٹ کی درخواست پر ملتوی کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اعظم سواتی صبح سات بجے میرے پاس آئے اور کہا اسٹیبلشمنٹ نے بھیجا ہے اور درخواست کی ہے کہ ملک کی خاطر جلسہ ملتوی کریں،اعظم سواتی نے پیغام دیا تھا کہ ایک جانب کرکٹ میچ دوسری جانب مذہبی جماعتوں کا اسلام آباد میں احتجاج ہے ملک میں انتشار پھیل سکتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ضمانت دی تھی کہ آٹھ ستمبر کے جلسے میں مکمل سہولت فراہم کریں گے، اسی پیغام پر پاکستان کی خاطر 22 اگست کا جلسہ ملتوی کیا۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اگر میں نے مقدمات سے ریلیف لینا ہوتا تو ملک سے بھاگ جاتا، مجھے یہی کہا گیا تھا کہ تین سال خاموش رہو کچھ نہیں ہوگا مقدمات ختم کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیب ترامیم بحالی اب قانون بن چکا ہے اس کے تحت عدالت سے ریلیف مانگا ہے یہ قانونی معاملہ ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کو دوبارہ مسلط کیا گیا تو ملکی تاریخ کی بھرپور احتجاجی تحریک شروع کریں گے، قاضی فائز ملکی تاریخ کا ایک جانبدار ترین جج ہے۔
مزیدپڑھیں :اسلام آباد: ریڈ زون کو اچانک سیل کردیا گیا

یہ بھی پڑھیں