چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے ججز تعیناتی سے متعلق انیسویں ترمیم اٹھارھویں ترمیم کے سر پر پستول رکھ کر منظور کرائی گئی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ فی الحال عدلیہ اپنے لیے خود ہی جج مقرر کر رہی ہے ، پیپلز پارٹی کافی دیر سے اس پر تنقید کر رہی ہے، بار کونسل اور بانی پی ٹی آئی دور کے وزیرِ قانون بھی اس پر تنقید کر چکے ہیں۔
چئیرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ شہید بھٹو کو اب انصاف ملا، ان کی تیسری نسل کو انتظار کرنا پڑا کہ ججز انصاف دیں گے، عام پاکستانی کی کیا امید ہوسکتی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر سیاسی انتقام کی روایت ختم کرنی ہے تو میثاقِ جمہوریت اور نیب اصلاحات کی طرف جانا ہوگا، نئے میثاقِ جمہوریت کے لیے بھی تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ کسی ایک فرد کا نہیں ہوسکتا، ایک بڑا فورم بنا ہے وہاں یہ فیصلہ کیا جاسکتاہے، اس پر پیپلزپارٹی کا مؤقف پارٹی کے منشور کے مطابق ہے۔بلاول بھٹو زرداری کاکہنا تھا کہ جو بھی فیصلے ہوں گےان کو جتنے اتفاق رائے سے کرسکتے ہیں اتنی ہی اس کو طاقت ملےگی۔
چئیر مین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ججز تعیناتی کے لیے اٹھارھویں ترمیم میں جو طریقہ کار طے کیا گیا تھا وہ واپس لایا جاتا ہے تو یہ اچھی شروعات ہوگی، مگر فیصلہ یک طرفہ نہیں بلکہ اتفاق رائے سے کرنا چاہیے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ججز سے متعلق ترمیم جیسے معاملے پر اتفاق رائے کسی بھی پارلیمنٹ کے لیے چیلنج ہوتا ہے۔
ملک بھر میں سولر پینل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

