اسلام آباد(ویب ڈیسک )مخصوص نشستوں کے سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے پرعملدرآمد کا معاملہ ، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو فیصلے پر وضاحت جاری کردی ۔
تفصیلات کےمطابق وضاحت مخصوص نشستوں کا فیصلہ سنانے والے 8 اکثریتی ججز کی جانب سے جاری کی گئی ہے، تحریری وضاحت 4 صفحات پر مشتمل ہے، الیکشن کمیشن نے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ان چیمبر وضاحت کی درخواست دائر کی تھی، سپریم کورٹ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ 41 آزاد قرار دیے گئے ایم این ایز تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کا ہی حصہ ہیں، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو فیصلے پر فوری عمل درآمد کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ انتخابی نشان سے محرومی کسی سیاسی جماعت کے حقوق ختم نہیں کرتی، پاکستان تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے اور ہے، انتخابات میں بھی نشستیں حاصل کیں، سپریم کورٹ نے کہا کہ دراصل الیکشن کمیشن کا وضاحت مانگناعدالتی فیصلے میں رکاوٹ ڈالنا ہے، سپریم کورٹ کےاکثریتی ججز نے کہا کہ الیکشن کمیشن خود بیرسٹرگوہر کو پاکستان تحریک انصاف کا چیئرمین تسلیم کرچکا ہے،پارٹی چیئرمین تسلیم کرنے کے بعد الیکشن کمیشن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔
سپریم کورٹ کا اپنے فیصلے میں کہناتھا کہ اس پر عملدرآمد نہ کرنے سے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، 41 آزاد قرار دیے گئے ایم این ایز پی ٹی آئی کا حصہ ڈکلیئر کئے گئے ہیں جس پر 80 ارکان اسمبلی پاکستان تحریک انصاف کے ہوچکے ہیں،80 ارکان اسمبلی کے جو ’ پروپرشنل ری پرزنٹیشن ‘ ہے اُس کے تناسب سے مخصوص نششتیں بھی جاری کی جائیں، اور سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ دیگر صوبائی اسمبلیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلہ دینے والے ججوں نے وضاحت میں کہا ہے کہ 12 جولائی کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے، سپریم کورٹ کا 12 جولائی کا شارٹ آرڈر بہت واضح ہے اور الیکشن کمیشن نے اس حکم کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنایا ہے۔
واضح رہے کہ مخصوص نشستوں کے اکثریتی فیصلہ دینے والے بینچ میں جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمدعلی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں۔
مزیدپڑھیں :آگرہ ،تاج محل میں برسات کا پانی بھر گیا، گنبد بھی ٹپکنے لگا



