Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

جسٹس بابر ستارکی چھٹی ، قیاس آرائیاں پھیل گئیں

اسلام آباد(نیوزڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار، جو ان ججوں میں سے ایک تھے جنہوں نے عدالتی امور میں انٹیلی جنس آپریٹو کی مداخلت پر چیف جسٹس کو خط لکھا تھا، موسم گرما کے بعد اپنی ذمہ داریاں بحال کرنے کے فوراً بعد ایک ماہ کی رخصت پر چلے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستارنے جمعرات کو چھٹی کیلئے درخواست دی چیف جسٹس عامر فاروق کو پیش کی جنہوں نے چھٹی کی درخواست منظور کرلی۔اگرچہ نوٹیفکیشن میں 30 ستمبر سے 29 اکتوبر تک ایک ماہ کی چھٹی کا ذکر کیا گیا مگریہ قابل توسیع چھٹی ہے اور اسے دسمبر تک بڑھایاجا سکتا ہے۔جمعرات کو جسٹس ستار نے بیشتر مقدمات کی سماعت دسمبر تک ملتوی کر دی۔جیسا کہ جج کے چھٹی پر جانے کے فیصلے کے بعد قیاس آرائیاں پھیل گئیں، ذرائع کے مطابق جسٹس ستار نے اس سال جولائی میں ایک ماہ کی چھٹی لی تھی ۔

اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس بابر ستار نومبر میں بھی دستیاب نہیں ہوسکتے ۔اس سال کے شروع میں، جسٹس ستار آڈیو لیک کیس کی بھی سماعت کر رہے ہیں جس میں ریاستی اداروں پر غیر قانونی طریقے سے شہریوں کی جاسوسی کرنے کا الزام ہے۔اسی معاملے میں، جج نے آئی ایچ سی کے چیف جسٹس کے سامنے شکایت درج کی اور نشاندہی کی کہ آڈیو لیکس کیس میں ان کے موقف کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جسٹس ستار نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق سے درخواست کی تھی کہ ان کی اور ان کے خاندان کی ذاتی تفصیلات بشمول ان کے امریکی رہائشی اجازت نامے آن لائن پوسٹ کیے جانے کے بعد توہین عدالت کی کارروائی شروع کریں۔جج نے نشاندہی کی کہ ان کے خاندان کے افراد کی رازداری کی خلاف ورزی کی گئی تھی، اور ان کے شناختی کارڈ اور مستقل رہائشی کارڈ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیے گئے تھے۔اس کے بعد، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کو ہدایت کی کہ وہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرے جن کی شناخت جسٹس بابر ستار کا ذاتی ڈیٹا سوشل میڈیا پر پھیلانے پر کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 79 واں سالانہ اجلاس،وزیر اعظم شہباز شریف آج شام 6 بجے اہم خطاب کرینگے 

یہ بھی پڑھیں