مظفرآباد (نیوزڈیسک):آزاد کشمیر میں ہونے والے ایم ڈی کیٹ امتحانات میں 30 سے زائد ایم سی کیو پرچہ پہلے ہی منظر عام پر آ گیا ہے، جس سے طلباء میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ متاثرہ طلباء نے مرکزی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس کے دوران اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
طلباء نے کہا کہ انہیں امتحانی بک لیٹس واپس لے لیے گئے ہیں اور شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی نے ان کے پرچے اپلوڈ نہیں کیے۔ طلباء نے نشاندہی کی کہ ان کے داخلے کے امتحانات ایچ ای سی کے ذریعے کرائے گئے ہیں، اور سوالات بھی ایچ ای سی نے تیار کیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امتحان میں ستائیس سے زائد ایسے ایم سی کیو شامل تھے جو نصاب میں شامل نہیں تھے۔ طلباء نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ احتجاج صرف فیل ہونے والے طلباء کر رہے ہیں، حالانکہ کامیاب طلباء بھی مسائل پر آواز اٹھا رہے ہیں۔
طلباء نے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سے ملاقات کی، جنہوں نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 22 اکتوبر سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں اور یہ کہ انہیں سڑکیں بند کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔طلباء کا مطالبہ ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی میں ان کا دوبارہ امتحان لیا جائے تاکہ ان کے ساتھ انصاف ہو سکے۔
حکومت کا وی وی آئی پیز کیلئےکروڑوں کی 79نئی لگژری گاڑیاں خریدنےکا منصوبہ




