Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

امریکی نمائندگان کا خط پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت،160پاکستانی پارلیمنٹرین کاوزیراعظم کو خط ارسال

اسلا م آباد (نیوزڈیسک)160پاکستانی پارلیمنٹرین نے امریکی کانگریس کے 62 اراکین کےامریکی صدر بائیڈن کو عمران خان کی رہائی سے متعلق خط کو پاکستان کے اندرونی معاملات میںمداخلت قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف کو خط ارسال کردیا۔ خط لکھنے والوں میں طارق فضل چوہدری، نوید قمر، مصطفیٰ کمال، آسیہ ناز تنولی، خالد مگسی اور دیگر شامل ہیں۔

ارکان پارلیمنٹ نے خط میں لکھا کہ ممبر بحیثیت پارلیمنٹیرین سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کے ذریعے کانگریس ارکان کو آگاہ کریں، پاکستان جمہوری چیلنجز سے نبرد آزما جسے انتہاپسندی کی سیاست نے مزید پیچیدہ کر دیا ۔پاکستانی پارلیمنٹرین کے خط میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے ریاستی اداروں کیخلاف سیاسی محاذ آرائی شروع کروائی۔

انہوں نے 9 مئی 2023کو ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی، بانی پی ٹی آئی نے اگست 2014 اور مئی 2022 میں بھی ملک کو مفلوج کیا ، خط میں کہا گیا کہ ہجوم کو پارلیمنٹ، سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت اور ریڈیو پاکستان پر حملے کیلئے بھی اُکسایا۔ارکان پارلیمنٹ نے خط میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے اسلام آباد اور لاہور میں انتشار اور تشدد کو ہوا دینے پر اکساتے رہے ۔

بانی پی ٹی آئی نے ڈیجیٹل دہشتگردی سے سوشل میڈیا کو انتشار اور بدامنی کو ہوا دینے میں استعمال کیا۔خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی منفی مہم میں کردار امریکا اور برطانیہ میں مقیم منحرف عناصر ادا کر رہے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کی ریاستیں اپنے شہریوں کیخلاف غیرمعمولی اقدامات پر مجبور ہیں۔

وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا کہ امریکی کانگریس کے اراکین کی ایسے شخص کی حمایت حیران کن ہے جوامریکی عدالت سے فرار ہے، کانگریس اراکین کا زیرسماعت مقدمات پر تبصرہ عدالتی عمل کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔

ممبران پارلیمنٹ نے خط میں کہا کہ سیاسی جماعتیں تمام حلقوں سے حمایت کیلئے لابنگ کرتی ہیں،پاکستان میں سیاست کے بارے میں ایسے تبصروں کو مداخلت اور بے بنیادسمجھا جاتاہے،ووٹرز کے مخصوص طبقے کو مطمئن کرنے کے لیے دیگرممالک کوانتخابی میدان میں گھسیٹنا غلط ہے۔
لاہور ،سموگ صورتحال تشویشناک، طلباء کو ہفتہ وار 3 چھٹیاں دینے پر غور

یہ بھی پڑھیں