Search
Close this search box.
جمعه ,17 جولائی ,2026ء

پاکستان میں ’سانس لینے کی جنگ‘ بیجنگ اور لندن نے بدترین سموگ کے مسئلے کا حل کیسے نکالا؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ابھی موسم سرما کا باقاعدہ آغاز تو نہیں ہوا لیکن فضا اس قدر آلودہ ہو چکی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہر طرف دھند چھائی ہوئی ہے۔صرف لاہور ہی نہیں بلکہ ملتان، فیصل آباد، قصور سمیت دیگر شہروں میں صورتحال خاصی پریشان کن ہے اور اکثر شہری سینے میں جلن، سانس لینے میں دشواری اور کھانسی، زکام کی شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

موٹروے پولیس کی جانب سے نومبر کے آغاز میں ہی ’دھند کے باعث‘ مختلف جگہوں سے موٹروے کو جزوی طور پر بند کیا گیا ہے۔ایسے میں پنجاب اور خصوصاً لاہور کے باسی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر اس مسئلے کا کوئی دیرپا حل بھی ہے؟پنجاب حکومت نے صوبے کے چار ڈویژن میں پہلی سے 12ویں جماعت تک سکولوں میں تعطیلات میں 17 نومبر تک توسیع کر دی ہے۔ ان چار ڈویژن میں لاہور، ملتان، فیصل آباد اور گوجرانوالہ شامل ہیں۔ ان علاقوں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔صوبے بھر میں سرکاری اور نجی دفاتر میں 50 فیصد سٹاف کو گھر سے کام کرنے کا کہا گیا ہے۔

پاکستان میں اس حوالے سے ایک عارضی حل مصنوعی بارش کو بھی کہا گیا تھا اور گذشتہ برس اس کے لیے متحدہ عرب امارات کے اشتراک سے ’کلاؤڈ سیڈنگ‘ بھی کی گئی تھی۔اس حوالے سے پنجاب حکومت میں وزیرِ ماحولیات مریم اورنگزیب کے مطابق حکومت کی جانب سے فصلیں جلانے کے عمل کو روکنے کے لیے ’سپر سیڈرز‘ نامی مشین متعارف کروانے کا عمل شروع کیا ہے جس کے ذریعے فصل کی کٹائی اور بیج بونے کا عمل ایک ساتھ ہو سکے گا۔

تاہم تاحال اس حوالے سے حکومت کی جانب سے مشین کی خریداری پر سبسڈی دی گئی ہے، اور یہ منصوبہ اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔پاکستان وہ پہلا ملک نہیں ہے جہاں سموگ کا مسئلہ اس قدر شدت اختیار کر گیا ہے بلکہ ماضی میں دو ترقی یافتہ ممالک کے دارالحکومت بھی سموگ کی لپیٹ میں رہے ہیں اور اس سے نکلنے میں انھیں برسوں لگے ہیں۔یہ شہر بیجنگ اور لندن تھے جہاں اب ایئر کوالٹی میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے، آئیے جانتے ہیں کہ ان شہروں نے سموگ سے لڑنے کے لیے کیا کیا اور پاکستان ان ممالک سے کیا سیکھ سکتا ہے؟
دی گریٹ سموگ آف لندن کیا تھی؟
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں 19ویں اور 20ویں صدی میں متعدد مرتبہ سموگ شہر پر چھا جانے کے واقعات دیکھے گئے۔ یہ عموماً اس وقت ہوتا جب لوگ کوئلہ جلا کر گھروں کو گرم رکھنے کی کوشش کرتے اور شہر میں موجود ہیوی انڈسٹری میں سے مختلف کیمیکلز فضا میں چھوڑے جاتے۔سنہ 1952 میں دی گریٹ سموگ آف لندن ان سب میں سے سب سے زیادہ مقبول موقع تھا جب چار روز تک حدِ نگاہ اتنی کم ہو گئی تھی کہ صرف چند فٹ تک ہی واضح دکھائی دیتا تھا۔ اس دوران کچھ اندازوں کے مطابق 10 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ سموگ نے زندگی کو ایسے مفلوج کر دیا تھا کہ یہ گھروں اور تہہ خانوں میں بھی داخل ہو گئی تھی اور سنیما گھروں میں سکرینز نظر آنا بند ہو گئی تھیں۔

5 دسمبر 1952 کو جب تہوار کے موسم کے آغاز کے بعد لندن کے باشندے شہر میں سیر و تفریح کر رہے تھے، تو ایسے میں صنعتوں کی چمنیوں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔جیسے جیسے رات ڈھلتی گئی، دھند گہری ہوتی گئی اور جلد ہی سموگ کی ایک تہہ نے دارالحکومت کو اندھیروں میں ڈبو دیا اور نظام زندگی مفلوج کر کے رکھ دیا۔لندن والے سڑکوں پر ٹھوکریں کھاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے مگر انھیں چند گز سے زیادہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔اگلے دن سورج طلوع ہوا تو سموگ پھر بھی برقرار رہی۔ بلکہ سورج کی روشنی میں یہ مزید گہری ہو گئی یہاں تک کہ کچھ علاقوں میں لوگ ایک قدم باہر نہیں نکال سکتے تھے۔اگلے چار دنوں تک شہر مکمل طور پر تاریکی میں ڈوب گیا۔زہریلی ہوا میں سانس لیتے لندن والے اب ایک نئی مصیبت میں گِھر گئے۔ شہر میں نمونیا اور برونکائٹس (کھانسی، گلا خرابی جیسے امراض) پھیل گئے اور شہر کے ہسپتال مریضوں سے بھر گئے کیونکہ ہزاروں لوگ زہریلی ہوا میں دم توڑ گئے۔

برطانیہ نے اس کا کیا حل نکالا؟
مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اس شہر کی خوبصورتی اور رونقیں بھی تب بحال ہوئیں جب وہاں کے حکمرانوں نے عوامی مطالبات پر ایسے اقدامات اٹھائے جس سے پھر اس سموگ، دھوئیں اور فضائی آلودگی کے زہریلے بادل نہ صرف چھٹ گئے بلکہ دنیا بھر کے انسان اب اس شہر کا رُخ کرتے ہیں اور وہاں سے تصاویر بنا کر اپنے سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر بھی کرتے ہیں۔

لندن میں اس واقعے کے بعد سے حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کیے گئے لیکن سنہ 1956 میں برطانیہ کی پارلیمان کی جانب سے ’کلین ایئر ایکٹ‘ پاس کیا گیا جس میں صنعتی اور گھروں سے نکلنے والے دھوئیں کو کنٹرول کرنے کے لیے شہروں اور قصبوں میں ’سموک کنٹرل ایریاز‘ بنائے گئے جہاں صرف ایسے ایندھن جلائے جاتے جن کا دھواں قدرے کم ہوتا ہے، اور گھروں کے مالکان کو سبسڈی دی گئی تاکہ وہ پائیدار ایندھن پر منتقل ہو سکیں۔سنہ 1968 میں اس ایکٹ میں توسیع کی گئی اور لندن کی ایئر کوالٹی میں اس کے بعد کی دہائیوں میں بہتری آنے لگی۔

شہر کی جانب سے ’الٹرا لو ایمشن زون‘ متعارف کروائے گئے جن میں زیادہ دھواں پھیلانے والی وہیکلز پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔ لندن سٹی ہال کی جانب سے اس پالیسی کے نفاذ کے چھ ماہ بعد کہا گیا کہ فضائی آلودگی میں ایک تہائی کی کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم اب بھی لندن میں فضائی آلودگی یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

سموگ اور دھند میں مسلسل اضافہ، موٹروے بند،سفر کرنیوالے احتیاطی تدابیر استعمال کریں،ترجمان موٹروے

یہ بھی پڑھیں