Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

حکومت کا بنیادی تنخواہ کے اسکیل کو ختم کرنے اور کنٹریکٹ پر مبنی ملازمت پر منتقل کرنے پر غور

وفاقی حکومت پبلک سیکٹر میں اہم اصلاحات پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت نان گزیٹڈ ملازمین کے لیے بنیادی پے سکیلز (BPS) کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا اور کنٹریکٹ پر مبنی بھرتیوں کی جانب منتقل ہونے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس اقدام کا مقصد حکومت کی انتظامی اصلاحات کو مزید موثر بنانا اور پبلک سیکٹر کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

اس تبدیلی کے حصے کے طور پر، وفاقی حکومت صحت کے شعبے میں بھی ایک اہم تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اس تجویز میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) اور پولی کلینک جیسے اہم ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت نیم تجارتی اداروں میں تبدیل کرنے کا امکان ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اسلام آباد کی صحت کی سہولتوں سے سالانہ 2 ملین روپے کی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے، اور میڈیکل ٹورازم کے ذریعے پانچ سالوں میں 80 سے 100 ارب روپے تک کی آمدنی کی توقع ہے۔

حکومت نے نئے سول اور فوجی بھرتیوں کے لیے پنشن کے نظام میں بھی تبدیلیوں کا آغاز کیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے کنٹریبیوٹری پنشن اسکیم کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ موجودہ بجٹ میں پنشن کے اخراجات کو کم کیا جا سکے، جس کا تخمینہ 1 ٹریلین روپے ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی اداروں میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کو نافذ کیا جائے تو سالانہ 35 سے 40 ارب روپے کی بچت ممکن ہو سکتی ہے۔

یہ اصلاحات اگر کامیابی سے نافذ ہوئیں تو نہ صرف حکومتی اخراجات میں کمی لائیں گی بلکہ پبلک سیکٹر کی کارکردگی اور مالی استحکام میں بھی بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس پالیسی کے اثرات ،خاص طور پر ملازمین کی چھانٹی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سےسوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں