لاہور: شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کروانا بظاہر ایک معمولی اور ضروری عمل لگتا ہے، لیکن حالیہ تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ یہ کام آپ کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
حال ہی میں، فوٹو اسٹیٹ کی دکانوں کے مالکان سے شناختی کارڈ کی سینکڑوں غیر قانونی کاپیاں خریدی گئیں۔ اس دھاندلی کو بے نقاب کرنے کے لیے نجی ٹی وی کی ٹیم نے ایک فوٹو اسٹیٹ والے سے رابطہ کیا اور اس سے یہ سودا طے کیا کہ ہمیں معقول رقم کے عوض لوگوں کے شناختی کارڈ کی کاپیاں فراہم کی جائیں گی۔ ان دکانداروں کی کارروائی میں انہوں نے شناختی کارڈ کی اضافی کاپیاں نکال کر اپنے پاس رکھ کر انہیں بعد میں مہنگے داموں فروخت کرنے کی کوشش کی۔
ایک اور دکاندار آصف نے بھی اسی طرح کا فراڈ کیا اور اس کی تصدیق کے بعد دوسرے دکاندار سے یہ سودا طے پایا۔ جب ان دکانداروں کو پکڑا گیا تو انہوں نے فوراً اپنے جرم کا اعتراف کیا اور شرمندگی کا اظہار کیا، جبکہ ایک دکاندار نے بتایا کہ ان کے چچا بھی اسی طریقے سے یہ کاپیاں فروخت کرتے تھے۔یہ واقعہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ شناختی کارڈ کی کاپیاں کروانے میں احتیاط ضروری ہے۔ اگر آپ کسی بھی ضرورت کے لیے اپنی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کرواتے ہیں، تو اس بات کا دھیان رکھیں کہ آپ کا شناختی کارڈ کہیں غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہو۔
ایسی کارروائیوں سے بچنے کے لیے عوام کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔
برے کام کا برا نتیجہ سنی لیو ن خیرات لینےپر مجبور



