آئی ایم ایف نے اپنے مشن کے حالیہ دورہ پاکستان پر ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں پاکستان کی حکومت کی گورننس اور کرپشن کے حوالے سے اقدامات کی تعریف کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ حکومت پاکستان کی سنجیدگی اور عزم کو سراہتے ہوئے، وہ پاکستان کے ساتھ تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے پرامید ہے۔ آئی ایم ایف نے مزید بتایا کہ اس کی ٹیم رواں سال کے آخر میں دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گی تاکہ مزید معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ ٹیم پاکستان کا دورہ گورننس، شفافیت اور اقتصادی نتائج کو بہتر بنانے کے لیے مواقع تلاش کرنے کے مقصد سے کرے گی۔ اس دورے کا مقصد حتمی جائزے کی تیاری میں مدد فراہم کرنا بھی ہے۔ آئی ایم ایف مشن نے 6 فروری سے 14 فروری تک پاکستان کا دورہ کیا، جس کا مقصد گورننس اور بدعنوانی کے تشخیصی جائزے کی تیاری کے لیے ابتدائی کام مکمل کرنا تھا۔
آئی ایم ایف کے مشن کا مقصد چھ بنیادی ریاستی افعال میں گورننس اور بدعنوانی کے خطرات کا ابتدائی جائزہ لینا تھا، جس میں مالیاتی طرز حکمرانی، مرکزی بینک کی حکمرانی اور آپریشنز، مالیاتی شعبے کی نگرانی، مارکیٹ کے ضوابط، قانون کی حکمرانی، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد سے متعلق امور شامل تھے۔
آئی ایم ایف کی ٹیم نے اس دوران مختلف اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کیں، جن میں وزارت خزانہ، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، وزارت قانون، سپریم کورٹ آف پاکستان، ایس ای سی پی، آڈیٹرجنل پاکستان، کاروباری برادری، سول سوسائٹی اور عالمی پارٹنرز شامل ہیں۔
آئی ایم ایف نے اس بات پر زور دیا کہ ان ملاقاتوں کا مقصد پاکستان میں گورننس کی بہتری اور بدعنوانی کے خاتمے کے حوالے سے مزید اقدامات اٹھانے میں مدد فراہم کرنا تھا۔

