Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

نادرا نے 23 سال بعد شناختی کارڈ کے قوانین بدل دئیے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )قومی شناختی کارڈ کے قوانین میں 23 سال بعد اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جو شہریوں کو گھر بیٹھے نادرا کی ایپلیکیشن کے ذریعے متعدد سہولیات فراہم کریں گی۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ان تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اب شہری شناختی کارڈ سے متعلق خدمات کو آن لائن اور موبائل ایپ کے ذریعے حاصل کر سکیں گے۔نادرا کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، نئی پالیسی کے تحت بائیو میٹرکس کی تعریف کو دوبارہ کیا گیا ہے تاکہ شناختی کارڈ کے نظام کی حفاظت اور سالمیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، بچوں کی رجسٹریشن کے لیے یونین کونسلوں کے ساتھ مینڈیٹری برتھ رجسٹریشن کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، جو دھوکہ دہی کو روکنے اور قومی شناختی نظام کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔وفاقی کابینہ کی جانب سے منظور کی گئی ان اصلاحات کا مقصد پاکستان کے شناختی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ نادرا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تبدیلیاں بین الاقوامی بہترین طریقوں اور بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کی تازہ ترین پیش رفت کے مطابق ہیں۔شہریوں کو اب گھر بیٹھے ہی شناختی کارڈ کی درخواست، اس کی تجدید، اور دیگر متعلقہ سروسز تک رسائی حاصل ہو گی، جو نہ صرف وقت بچائے گی بلکہ نظام کو زیادہ شفاف اور آسان بھی بنائے گی۔ نادرا کی ایپلیکیشن کے ذریعے یہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جو گوگل پلے اسٹور اور ایپ اسٹور پر دستیاب ہے۔یہ تبدیلیاں ملک بھر کے شہریوں کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہوں گی، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں اور نادرا کے دفاتر تک رسائی مشکل ہوتی ہے۔ نادرا کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کے تحت ایک اہم سنگ میل ہے۔
مزید پڑھیں:کیا آنے والے دو دن موسم مزید بگڑے گا؟ محکمہ موسمیات نے خبردار کر دیا

یہ بھی پڑھیں