کراچی (نیوز ڈیسک) سندھ حکومت نے مزدور طبقے، خاص طور پر خواتین ورکرز کے لیے نئی امیدوں کا دروازہ کھول دیا ہے۔ رواں مالی سال میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کی جانب سے منظور کیے گئے بجٹ میں کئی انقلابی اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جن میں 10 ہزار صنعتی خواتین کے لیے مفت الیکٹرک بائیکس کی فراہمی، 7 لاکھ روپے تک ہیلتھ انشورنس، اور ڈیجیٹل ہاؤسنگ و تعلیمی منصوبے شامل ہیں۔
کن خواتین کو ملیں گی مفت الیکٹرک بائیکس؟
بورڈ کے 33ویں اجلاس میں اس اسکیم کو باضابطہ منظوری دی گئی جس کے تحت 10 ہزار خواتین صنعتی ورکرز کو الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد محنت کش خواتین کو آسان اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ مہیا کرنا ہے، تاکہ وہ خودمختار ہو سکیں اور روزگار تک رسائی میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو۔
7 لاکھ کی ہیلتھ انشورنس – محنت کشوں کے لیے نئی سہولت
نئے بجٹ میں شامل حادثاتی ہیلتھ انشورنس اسکیم کے تحت محنت کشوں کو سالانہ 7 لاکھ روپے تک کا مفت علاج ملک بھر کے 270 اسپتالوں میں دستیاب ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیتھ گرانٹ کی رقم 7 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے جبکہ شادی گرانٹ کی رقم 3 سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
رہائش کی سہولت: فلیٹس کی جگہ سولرائزڈ گھر
ورکرز کے لیے فلیٹس کی بجائے اب مکمل سولرائزڈ گھر تعمیر کیے جائیں گے، تاکہ نہ صرف بہتر رہائش بلکہ توانائی کے مسائل کا بھی حل ممکن ہو۔ اس کے علاوہ ہاؤس لون اور کار لون ایک بار جب کہ بائیک لون دو بار حاصل کرنے کی سہولت دی جائے گی، بشرطیکہ پہلے یہ سہولت استعمال نہ کی گئی ہو۔
تعلیم اور ڈیجیٹل پاکستان: اسکولوں کی سولرائزیشن اور بچوں کے یونیفارمز
بورڈ کے مطابق سندھ کے تمام ورکرز اسکولز کو سولر پر منتقل کیا جائے گا، اور ہر سال طلباء کو دو مرتبہ مفت یونیفارمز دیے جائیں گے۔
ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفافیت اور انصاف کی جانب قدم
تمام مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کا ڈیٹا نادرا اور ای او بی آئی سے منسلک ہوگا، جس سے امدادی منصوبوں میں شفافیت آئے گی۔ اس کے علاوہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کی سرمایہ کاری اب ایس ای سی پی سے منظور شدہ شریعت کمپلائنٹ سکوک بانڈز میں کی جائے گی، جس کے لیے ابتدائی طور پر 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
فنڈز کی تقسیم پر سندھ کا تحفظات کا اظہار
اجلاس کے دوران انکشاف سامنے آیا کہ تیرپن سالوں میں FBR نے مجموعی طور پر تین سو پچاس ارب روپے مزدوروں کے فنڈ کے طور پر جمع کیے، لیکن سندھ کو صرف بائیس اعشاریہ پانچ ارب روپے دیے گئے۔ حکومت سندھ نے اس غیر منصفانہ تقسیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم کو باضابطہ خط بھی ارسال کیا ہے۔
مزیدپڑھیں:اگست میں مسلسل 4 روزہ تعطیلات کا امکان، طلباء و ملازمین کے چہرے خوشی سے کھِل اُٹھے

