Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

پی ٹی آئی کو ایک اور بڑا جھٹکا،مزید26ممبران کی نااہلی کا معاملہ پھر سر اٹھانے لگا

لاہور(اوصاف نیوز)پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 ارکان کی ممکنہ نااہلی کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی اور قانونی سطح پر گرم ہو گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی جانب سے دی گئی رولنگ کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے ارکان اس معاملے کو لے کر وکلا سے مشاورت کر رہے ہیں کہ آیا اس فیصلے کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں چیلنج کیا جائے یا لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جائے؟

مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی افتخار حسین چھچھڑ، امجد علی جاوید اور ملک احمد سعید نے اعلان کیا ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں اسپیکر کی رولنگ کو چیلنج کریں گے۔

افتخار چھچھڑ کا دوٹوک مؤقف
رکن اسمبلی افتخار حسین چھچھڑ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف اپوزیشن کے 26 ارکان کی نااہلی کا مسئلہ نہیں، بلکہ سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کی ساکھ کا سوال ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف کے خلاف دیے گئے ریفرنس کو درست تسلیم کیا جاتا ہے تو پھر اپوزیشن کے ان ارکان کی بھی نااہلی لازمی ہونی چاہیے۔

’عدالت کو یہ فیصلہ دینا ہوگا کہ جسٹس ثاقب نثار کا دیا گیا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق تھا یا نہیں۔ اگر وہ فیصلہ آئینی نہیں تھا تو اس کی درستگی ضروری ہے۔‘

سپیکر کی رولنگ پر اعتراض
افتخار حسین چھچھڑ نے واضح کیا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو چیلنج کرنے کا مقصد کسی فرد کو نااہل کرانا نہیں، بلکہ صرف اور صرف قانونی پیچیدگیوں کی وضاحت اور آئینی تشریح حاصل کرنا ہے۔

بھارتی میڈیا کا پونچھ سیکٹر پر گولہ باری اور طیاروں کی پروازو ں سے متعلق جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب
سیاسی و عدالتی پس منظر
یہ معاملہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے اس فیصلے سے جڑا ہوا ہے، جس کے تحت نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔
اب مسلم لیگ ن کے چند ارکان مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسی فیصلے کی روشنی میں اپوزیشن کے 26 ارکان پر بھی وہی اصول لاگو ہونے چاہئیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں؛آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لیکر شہریت لینے کی تیاری کر رہی ہے ، خواجہ آصف

یہ بھی پڑھیں