Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

پلاسٹک ویسٹ سے ماحول دوست اینٹوں کی تیاری، تعمیراتی صنعت میں نیا انقلاب

لاہور (نیوز ڈیسک)روایتی اینٹوں کی تیاری صدیوں سے مٹی، پانی اور آگ کے امتزاج سے ہوتی آئی ہے، لیکن اب پاکستان میں ایک ایسا نیا اور ماحول دوست طریقہ متعارف ہو رہا ہے جو اس تصور کو بدل دے گا۔ اینٹیں اب پلاسٹک ویسٹ سے تیار کی جا رہی ہیں — اور یہ قدم نہ صرف فضلے کے مسئلے کو کم کرے گا بلکہ تعمیراتی اخراجات بھی گھٹا دے گا۔

پلاسٹک سے بنی یہ “ایکو برکس” ٹائلز عام اینٹوں کے مقابلے میں ہلکی، مضبوط اور پائیدار ہیں۔ کمپنی کے سی ای او، گلفام عابد کے مطابق، صرف لاہور میں روزانہ تقریباً 500 ٹن پلاسٹک کچرے کی صورت میں ضائع ہو جاتا ہے، جو ماحول کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے انہوں نے پلاسٹک کو ری سائیکل کر کے تعمیراتی اینٹوں میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔

اس عمل میں شاپنگ بیگز اور چپس کے پیکٹس جیسی نرم پلاسٹک کو ریت، بجری اور سیمنٹ کے ساتھ مخصوص تناسب میں ملا کر ایک مکسچر تیار کیا جاتا ہے، جسے ڈھال کر اینٹوں کی شکل دی جاتی ہے۔ یہ اینٹیں بلند و بالا عمارتوں سے لے کر عام گھروں تک کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں اور مہنگی سیمنٹ اینٹوں کا بہترین متبادل ثابت ہو رہی ہیں۔

یہ نیا ماڈل نہ صرف تعمیراتی صنعت میں انقلاب لا سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔
200 مزیدپڑھیں:یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، وزیر توانائی

یہ بھی پڑھیں