اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم نے اے بی این نیوز کے پروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کے اندرونی اختلافات، استعفوں کی خبروں اور اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے حوالے سے اہم نکات بیان کیے۔
شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ کے حالیہ ٹویٹ سے پارٹی کے اندر بحث ضرور ہوئی ہے، لیکن انہوں نے ذاتی طور پر ایسی کسی ناراضگی یا سخت سوالات کی تردید کی۔ ان کے مطابق، “میں نے ان سے کوئی سخت سوال نہیں کیا، نہ ہی میرے اور ان کے درمیان ایسا کوئی معاملہ تھا۔”
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر اختلافِ رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے اور عمران خان کی قیادت میں فیصلے اکثریت کی رائے سے ہوتے ہیں۔ ان کے بقول، “یہ ایک سیاسی جماعت ہے، کوئی فوجی بریگیڈ نہیں جہاں حکم پر سب کو ایک ہی لائن میں آنا پڑے۔ لوگ اپنی رائے دیتے ہیں، خدشات ظاہر کرتے ہیں، لیکن آخر میں فیصلہ خان صاحب کا ہی ہوتا ہے۔”
اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی
شیخ وقاص اکرم نے واضح کیا کہ اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے کسی کو انفرادی طور پر کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں، بلکہ یہ معاملہ براہِ راست عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خان صاحب کی ہدایت تھی کہ شبلی فراز اور عمر ایوب کو ترجیح دی جائے، اور اسی پر کمیٹی نے عمل کیا۔
البتہ محمود خان اچکزئی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان ان کا نام لیں تو وہ بھی قبول ہوگا، کیونکہ “ہم سب نے خان صاحب کو اپنا لیڈر مانا ہے، ان کا فیصلہ ہی حتمی فیصلہ ہے۔”
9 مئی کے کیسز اور قانونی معاملات
تحریک انصاف کے رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی کو عدالتی فیصلوں کا احترام ہے۔ ان کے مطابق، “اگر کسی رہنما کو سزا سنائی گئی ہے لیکن عدالت نے اسٹے دے دیا ہے تو وہ اپنی نشست پر بحال رہیں گے۔ یہ ای سی پی یا عدالت کا اختیار ہے، پارٹی کا نہیں۔”
قیادت پر سوالات
پروگرام میں سوال کیا گیا کہ کیا محمود اچکزئی کی قیادت پر پارٹی کے اندر اعتراضات ہیں؟ اس پر شیخ وقاص نے کہا کہ بعض لوگ خدشات ظاہر کرتے ہیں لیکن یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ کہنا درست نہیں کہ اکثریت اچکزئی صاحب کے خلاف ہے۔ سیاسی جماعتوں میں ہر ایک کی اپنی رائے ہوتی ہے، لیکن عمران خان کے فیصلے پر سب متفق ہیں۔”
استعفوں کی افواہیں
سلمان اکرم راجہ کے استعفے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے شیخ وقاص نے کہا کہ انہوں نے خود ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن براہِ راست بات نہ ہو سکی۔ “ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ ان کے ٹویٹ کے پیچھے اصل وجہ کیا تھی، لیکن میرا ماننا ہے کہ انہوں نے جو بات لکھی، اس میں بھی خان صاحب سے اعتماد کا اظہار تھا۔”
یہ جماعت نہیں، انتشار کا مرکز ہے” طلال چوہدری نے تحریک انصاف کو آڑے ہاتھوں لے لیا
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اندرونی خلفشار اور باہمی عدم اعتماد کا شکار ہے، جس کی وجہ سے عوام کے مسائل پسِ پشت چلے گئے ہیں۔
پروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما ایک دوسرے کے فیصلوں پر اعتماد نہیں کر رہے۔ ان کے بقول، ایک طرف پارٹی کمیٹیاں فیصلے کر رہی ہیں تو دوسری طرف سینئر قیادت سوشل میڈیا پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی ایک انتشار زدہ جماعت بن چکی ہے جس کے پاس عوامی مسائل کا کوئی حل نہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور طریقے سے میدان میں موجود ہے اور آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔
انہوں نے کہا:
’’عوام نے پہلے ہی دیکھ لیا ہے کہ تحریک انصاف نے معیشت سے لے کر خارجہ پالیسی تک ملک کو بحرانوں میں دھکیل دیا۔ اب وقت ہے کہ عوام مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر اعتماد کریں۔‘

