لاہور، لندن (ویب ڈیسک) پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور سیکیورٹی معاملات پر اہم مذاکرات آج قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متوقع ہیں۔
بین الاقوامی اور علاقائی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان مذاکرات کا مقصد حالیہ تناؤ کو کم کرنا اور دوطرفہ تعاون کے نئے راستے تلاش کرنا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، افغان طالبان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت طالبان کے وزیرِ دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہدکریں گے۔ وفد کی ملاقات پاکستان کے اعلیٰ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس حکام سے ہو گی۔
ادھر پاکستان کی جانب سے تاحال ان مذاکرات کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم’’سرکاری میڈیا‘‘اور سیکیورٹی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دوحہ میں دونوں فریقین کے درمیان بات چیت ہونے جا رہی ہے۔’’نجی ٹی وی ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی تیاری مکمل ہے، مگر وقت اور مقام کی تفصیلات سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کی جا رہیں۔
ذرائع کے مطابق، مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان عارضی جنگ بندی کی مدت آج ’’شام چھ بجے‘‘ ختم ہو رہی ہے۔ جنگ بندی کے بعد اگر فریقین کے درمیان کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو سرحدی علاقوں میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات نہ صرف پاک-افغان تعلقات کے مستقبل کے لیے اہم ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے امکانات کو بھی متاثر کریں گے۔ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ فریقین کو کشیدگی کم کرنے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ، نتیجہ خیز بات چیت کرنی چاہیے۔
گزشتہ مہینوں کے دوران پاک-افغان سرحد پر متعدد جھڑپیں اور حملے دیکھنے میں آئے، جن میں دونوں جانب جانی نقصان بھی ہوا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان سرزمین دہشت گرد عناصر کے استعمال میں آ رہی ہے، جبکہ طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
مذاکرات کے نتائج پر خطے کی نظریں مرکوز ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ فریقین تناؤ کم کرنے اور دیرپا حل کی طرف پیش رفت کریں گے۔
مزید پڑھیں : پاکستان میںڈالرکی تازہ ترین ریٹ لسٹ




