مظفرآباد(اوصاف نیوز)آزادکشمیر میں اربوں روپے کے سیکرٹ اور سیکریٹریٹ فنڈ اسکینڈل کا انکشاف، سرکاری دستاویزات منظرعام پر آ گئے۔
معروف سرمایہ دار تحریک انصاف کے سابق وزیراعظم تنویر الیاس مبینہ خرد برد کی کہانی میں سب کو پیچھے چھوڑ گئے۔ سابق وزیر تنویر الیاس کے دور مالی سال 2022-23 میں سیکریٹریٹ اور خفیہ فنڈز میں اربوں روپے کا گورکھ دھندہ سامنے آ گیا۔
دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نہ آڈٹ، نہ تفتیش، نہ ریکوری اربوں روپے خرچ، جوابدہ بھی کوئی نہیں۔ سابق وزیراعظم نے اپنے دور میں اسمبلی سے منظور شدہ بجٹ کے مقابلے میں پانچ گنا زائد فنڈز جاری کیے گئے۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ کا منظور شدہ بجٹ 19 کروڑ مگر اضافی فنڈز 75 کروڑ سے تجاوز ہوئے۔
دستاویز کے مطابق سیکرٹ فنڈ کا اصل بجٹ صرف 2 کروڑ، اخراجات 60 کروڑ 50 لاکھ روپے تک جا پہنچے۔ سیکرٹ فنڈز کی رقم کہاں گئی؟ تاحال اس کا کوئی سراغ نہ لگ سکا۔ فنڈز پہلی تین سہ ماہیوں میں خرچ کیے گئے، چوتھی سہ ماہی شروع بھی نہ ہوئی تھی۔ اربوں روپے کے فنڈز اسمبلی کی منظوری کے بغیر جاری، فنانس ڈیپارٹمنٹ بے خبر یا شریک تاحال اس کا بھی سراغ نا لگ سکا۔
دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اربوں کے فنڈز جاری کیے۔ سابق چیف سیکرٹری نے سوال اٹھایا کہ کس قانون کے تحت اربوں روپے جاری کیے گئے؟ تاحال کوئی جواب نہیں مل سکا۔
دستاویزات میں چیف سیکریٹری ڈاکٹر عثمان چاچڑ کا تحریری اعتراض ریکارڈ کا حصہ ہے۔ سابق چیف سیکریٹری آزاد کشمیر نے معاملے کو سنگین بےضابطگی قرار دے کر مکمل وضاحت طلب کی تھی۔ محکمہ خزانہ سے اضافی فنڈز کی تفصیلات، قواعد اور ذمہ دار محکموں کی فہرست بھی چیف سیکرٹری کی جانب سے طلب کی گئی۔
دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چیف سیکریٹری کو لاعلم رکھ کر فنڈز جاری کیے گئے، قواعد و ضوابط کی دھجیاں اُڑا دی گئیں۔ فنڈز کے اجرا اور خرچ پر مکمل خاموشی، شفافیت پر سنگین سوالات اٹھنے لگے۔
اڑھائی سال گزرنے کے باوجود احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن خاموش، کسی قسم کی کارروائی سامنے نہ آ سکی۔
احتسابی اداروں کی خاموشی پر سول سوسائٹی اور اپوزیشن نے سوالات اٹھا دیے۔ دستاویز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہیں۔
مزید پڑھیں : پاکستان میں تانبے کی نئی قیمت مقرر




