اسلام آباد( اوصاف نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 2 گھنٹے قبل ترکی میں افغانستان سے ملاقات ہوئی جس کے نتائج کل تک سامنے آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ معاملات حل نہ ہوئے تو جنگ ہو گی۔ مذاکرات کا پہلا دور قطر میں ہوا اور اس وقت مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سے پہلے جو بھی مذاکرات ہوئے اگر وہ میری مرضی کے مطابق نہیں تو وہ لوگ بھی امن چاہتے ہیں اور ہم بھی امن چاہتے ہیں۔ کن شرائط پر امن ہوگا؟ قطر میں کچھ باتیں واضح ہوئیں، کچھ آج کی جائیں گی۔ امید ہے کہ کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان سے مذاکرات کا عمل دوست ممالک کی ثالثی سے چل رہا ہے، قطر اور ترکی اس عمل میں بڑے خلوص کے ساتھ کردار ادا کر رہے ہیں۔
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ 40 سال سے ہم افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں، صرف 40 لاکھ کے قریب افغان یہاں مقیم ہیں، جہاں ایک قوم نے آپ کی ایسی مہمان نوازی کی، آپ کا ہمسایہ ہے، ایک ہی مذہب کے پیروکار ہیں، تو کیا آپ اس قوم کے خلاف بھی دہشت گردی کی حمایت کریں گے۔ اس سے زیادہ افسوس کی بات کیا ہو سکتی ہے۔
افغانستان کو مناسب تعلقات کے لیے اور کون سے لوازمات درکار ہیں؟ ایک ایجنڈا طے کیا جائے، دونوں ممالک بھائیوں اور پڑوسیوں کی طرح رہیں، ضروری نہیں کہ ہم ایک دوسرے سے گلے ملیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ جو بھی افغان شہری ویزہ لے کر پاکستان آئے گا اسے واپس جانا پڑے گا، ویزہ دیا گیا ہے مستقل رہائش نہیں۔
مزید پڑھیں:نیویارک، زہران ممدانی مسجد کے باہر تقریر کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے


