اسلام آباد(اے بی این نیوز) سابق وفاقی وزیرِ قانون ڈاکٹر بابر اعوان نےکہا کہ پاکستان میں آئینی ترامیم کا سلسلہ اس انداز میں جاری ہے جیسے تاریخ اور قانون کی روح کو نظرانداز کیا جا رہا ہو۔ بابر اعوان نے تاریخی تناظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں آئینی ترامیم اتفاقِ رائے سے کی جاتی ہیں۔ انگلستان میں بادشاہ اور بیرنز کے درمیان تنازع کے بعد میگنا کارٹا وجود میں آیا، جبکہ امریکہ میں طویل جدوجہد کے نتیجے میں آئین اور بل آف رائٹس تیار ہوا۔ ان کے مطابق پاکستان کی عمر صرف 78 برس ہے لیکن ہم نے اپنے آئینی ڈھانچے کو مسلسل بگاڑا ہے۔
اے بی این نیوز کے پروگرام ’’ڈی بیٹ ایٹ 8‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین واحد قومی دستاویز ہے جس پر 25 کروڑ عوام متفق ہیں۔ یہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک عمرانی معاہدہ ہے جو بنیادی حقوق، قانون کی حکمرانی، اور شہری آزادیوں کی ضمانت دیتا ہے۔ مگر افسوس کہ اب آئین کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے میں چار اہم عناصر شامل ہیں، جن میں سب سے نمایاں قانون کی حکمرانی ہے۔ ان کے مطابق عوامی بہبود کے قانون کو احتیاطی قانون کہا جاتا ہے جبکہ روک تھام کے قوانین عوامی مفاد کے خلاف ہوتے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ تین برسوں میں بنیادی حقوق میں اس طرح ترامیم کی گئیں جیسے کسی عام دکان سے پان خرید لیا گیا ہو۔ بابر اعوان نے کہا کہ رات کے وقت بند لفافوں میں ترامیم منظور کی جاتی ہیں، ارکان پارلیمنٹ کو معلوم تک نہیں ہوتا کہ ان کے سامنے کیا رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی اس انداز میں آئینی ترمیم نہیں ہوئی۔
سابق وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ایک وقت تھا جب وہ خود وفاقی وزیر قانون و انصاف کے طور پر آئینی اصلاحات میں شامل تھے۔ 18ویں ترمیم کی تیاری کے دوران نو ماہ تک بحث و مباحثہ جاری رہا، پانچ سابق وزرائے قانون اس عمل کا حصہ تھے، اور ہر شق پر تفصیلی گفتگو کی گئی تھی۔ لیکن اب جو ترامیم کی جا رہی ہیں وہ کسی بحث کے بغیر صرف ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ کے ذریعے منظور ہو رہی ہیں، جو ان کے مطابق فارم 47 کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے اور عوامی نمائندگی سے خالی ہے۔
بابر اعوان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ماضی میں جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں، مگر اب وہ بھی ایسے فیصلوں کی حمایت کرتی دکھائی دیتی ہے جن سے وفاق کے ڈھانچے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں پیپلز پارٹی عوامی تحریک تھی، بی بی شہید کے دور میں بھی عوامی نعرے اور مزدوروں کے حقوق پارٹی کی پہچان تھے، لیکن بعد ازاں پارٹی نے پنجاب سے اپنی جڑیں کھو دیں اور اب صوبائی سیاست تک محدود ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی قیادت کے پیشِ نظر ذاتی مفادات اور جائیدادوں کے تحفظ ہیں۔ پاکستان میں جائیدادوں کی بڑی خرید و فروخت ہو رہی ہے، جس کے پیچھے مخصوص طبقہ موجود ہے جو اقتدار کو ذاتی طاقت کے حصول کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے فیصلوں کا نتیجہ قوم پرستانہ سیاست کے دوبارہ سر اٹھانے کی صورت میں نکل سکتا ہے، خصوصاً سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں خودمختاری کی تحریکیں دوبارہ متحرک ہو سکتی ہیں۔
بابر اعوان نے خبردار کیا کہ اگر آئین کے بنیادی ڈھانچے سے چھیڑ چھاڑ جاری رہی تو وفاقی نظام ہل سکتا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور آئینی ترامیم پر کھلی بحث کا مطالبہ کریں۔ ان کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کو آئینی توازن، عدلیہ کی خودمختاری اور عوامی نمائندگی کے تحفظ کے لیے متحد ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم کے بعد عدلیہ کا نظام مفلوج ہو چکا ہے، اور 27ویں ترمیم کے ذریعے طاقت کا توازن مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔ بابر اعوان کے مطابق اپوزیشن کو محض بیانات کے بجائے عملی اقدام کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے اور اس کے ایجنڈے میں سب سے پہلی ترجیح عمران خان کی رہائی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کی قیادت کی پالیسی کے مطابق، کسی بھی سیاسی بات چیت میں صرف عمران خان ہی حتمی فیصلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں آئین کے بنیادی اصول، عوامی خودمختاری، اور ریاستی اداروں کے درمیان توازن خطرے میں ہے۔ اگر فوری طور پر شفاف مکالمہ اور آئینی اصلاحات پر قومی اتفاق رائے پیدا نہ کیا گیا تو پاکستان ایک نئے سیاسی بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:سرکاری ملازمت یا غیر ملکی شہریت؟ حکومت نے واضح پیغام دیدیا




