اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر اہم گفتگو کرتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت نادر گبول، معاون خصوصی برائے اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان اور مسلم لیگ (ن) کی رہنما شمائلہ رانا نے حکومتی صواب دیدی فنڈز، آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ، آئینی ترامیم اور عدالتی معاملات پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ اے بی این نیوز کے پروگرام ’ڈیبیٹ ایٹ 8‘ میں گفتگو کا آغاز نادر گبول نے اس انکشاف سے کیا کہ حکومت نے حال ہی میں 43 ارب روپے صوابدیدی فنڈز کی مد میں جاری کیے جن کے تحت ہر ایم پی اے کو 25 کروڑ روپے دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 5.3 ٹریلین روپے کی کرپشن ہوئی ہے، جس کے باعث عالمی ادارہ فنڈز کے استعمال پر تشویش ظاہر کر رہا ہے۔ نادر گبول کا کہنا تھا کہ صواب دیدی فنڈز کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے اور یہ تاثر درست نہیں کہ یہ رقم ارکان کے ذاتی استعمال میں آتی ہے۔ ان کے مطابق حلقوں کی ترقی اور عوامی توقعات کے پیش نظر یہ فنڈز ضروری سمجھے جاتے ہیں، تاہم شفافیت اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔
شفیع جان نے گفتگو میں حکومت پر سخت تنقید کی اور الزام لگایا کہ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی وہ رپورٹ تین ماہ تک روک کر رکھی جس میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ عوامی دباؤ کے باعث رات گئے جاری کی گئی جبکہ حکومت اور اس کے اتحادی اس کرپشن سے مستفید ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے خود فیصلہ سازی کا اختیار نہیں بلکہ بیرونی دباؤ پر کام کیا۔ شفیع جان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اعزاز نہ لینے کا جو تاثر دیا وہ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا، بلکہ ماضی اور مستقبل کے خدشات کے باعث ایسا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ترامیم نے بنیادی انسانی حقوق اور عدالتی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے اور عالمی ادارے بھی اس پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔
دورانِ پروگرام شمائلہ رانا نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار، انسانی حقوق اور عدالتی خود مختاری کے حوالے سے جو خدشات سامنے آ رہے ہیں وہ توجہ طلب ہیں۔ ان کے مطابق عدالتی فیصلوں میں تاخیر اور مقدمات کے بڑے بیک لاگ نے نظام کو کمزور کیا ہے، اسی تناظر میں جوڈیشل کورٹس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق اور آئی ایم ایف کی رپورٹس میں عدالتی ساخت متاثر ہونے کے جو نکات اٹھائے گئے ہیں، ان کا جواب حکومت کو دینا چاہیے۔
شفیع جان نے عدلیہ کے کردار پر مزید بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 8 فروری کے انتخابات کے دوران عدالتوں نے سہولت کار کا کردار ادا کیا اور پی ٹی آئی کے انتخابی نشانات کے حوالے سے فیصلے یکطرفہ تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ عدالتی رویہ انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بن رہا ہے اور اس کی وجہ سے عمران خان سمیت کئی سیاسی رہنماؤں کے مقدمات تاخیر کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور عدلیہ دونوں کو عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جو شفافیت کو بڑھائیں نہ کہ تنازعات کو جنم دیں۔
پروگرام کے اختتام پر مہمانوں نے اتفاق کیا کہ صواب دیدی فنڈز، آئینی ترامیم اور کرپشن سے متعلق الزامات نے سیاسی ماحول میں بے یقینی کو بڑھایا ہے اور حکومت و اداروں کو شفافیت، آئینی بالادستی اور عوامی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
مزیدپڑھیں:کُرم میں خوارج کا پولیس چیک پوسٹ پر حملہ:2 اہلکار شہید،جوابی کارروائی میں 4دہشتگرد ہلاک


