اسلام آباد(ویب ڈیسک) وہ پاکستانی شہری جو سویڈن میں داخلے کیلیے شینگن ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں اُن کیلیے ضروری ہے کہ وہ یورپی ملک میں قیام یا سفر کے اخراجات پورا کرنے کیلیے مناسب مالی وسائل رکھتے ہوں۔
سویڈن میں 90 روزہ قیام کیلیے پاکستانی شہری کو درخواست کے ساتھ تازہ اور درست بینک اسٹیٹمنٹ جمع کروانا ہوگی تاکہ ان کے موجودہ بینک بیلنس کی تصدیق ہو سکے۔ اس دستاویز کو منسلک کرنے کا مقصد یہ ثابت کرتا ہے کہ درخواست دہندہ ایک حقیقی اور قابلِ اعتبار شخص ہے جو ملک میں غیر قانونی طور پر قیام کی کوشش نہیں کرے گا۔
ہر سال دنیا بھر سے بے شمار سیاح سویڈن کی خوبصورتی دیکھنے اور پُرسکون چھٹیاں گزارنے کیلیے جاتے ہیں۔ کچھ ممالک کے شہریوں کو ویزے کے بغیر داخلے کی اجازت ہے لیکن زیادہ تر غیر ملکی (جن مین پاکستانی بھی شامل ہیں) کو شینگن ویزا کی درخواست دینا پڑتی ہے۔
پاکستانی شہریوں کیلیے شینگن ویزا درخواستوں کی کارروائی سویڈش سفارت خانہ کرتا ہے جبکہ پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں کی درخواستیں بھی یہیں نمٹائی جاتی ہیں۔
فنڈز کا ثبوت
قواعد کے مطابق درخواست گزار کو شینگن ویزا درخواست کے ساتھ بینک اسٹیٹمنٹ بطور مالی وسائل کا ثبوت جمع کروانا ہوتا ہے۔ اس اسٹیٹمنٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسافر کے پاس یورپی ملک میں قیام کے دوران اخراجات پورے کرنے کیلیے کافی رقم موجود ہے۔
وزٹ ویزا کیلیے بینک بیلنس
شینگن ویزا کیلیے درخواست گزاروں کو گزشتہ 6 ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ جمع کروانی ہوتی ہے جو بینک کی جانب سے باقاعدہ دستخط شدہ اور اسٹامپ شدہ ہو۔
ایک سیاح کیلیے سویڈن میں روزانہ اخراجات پورے کرنے کیلیے اوسطاً 80 یورو درکار ہوتے ہیں۔ اگر کوئی سویڈن میں 90 روزہ قیام کرتا ہے تو اس کے اکاؤنٹ میں 7200 یورو موجود ہونا لازمی ہے۔
آج (2 دسمبر 2025) ایک یورو 324.5 پاکستانی روپے کے برابر ہے لہٰذا پاکستانی درخواست گزاروں کے پاس ویزا درخواست کے وقت تقریباً 23 لاکھ روپے موجود ہونا لازمی ہے۔
مزیدپڑھیں:مفتی منیب الرحمن ڈینگی کے باعث ہسپتال میں داخل




