اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاور ڈویژن نے نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 پر تفصیلی مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت اندازاً 8,700 میگاواٹ تک اضافی پیداواری گنجائش موجود ہے، جو بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور بالآخر اس کا بوجھ صارفین کے ٹیرف پر پڑتا ہے، کیونکہ زیادہ تر پاور پلانٹس ٹیک اینڈ پے یا مسٹ رن معاہدوں کے تحت چل رہے ہیں۔
پاور ڈویژن کے مطابق نصب شدہ پیداواری صلاحیت مکمل ریگولیٹری عمل سے گزر کر قائم کی گئی، جس میں لائسنس کا اجرا اور ٹیرف کا تعین شامل ہے۔ تاہم، طلب میں اضافے اور پاور پلانٹس کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے تین سالہ مدت پر مشتمل رعایتی نرخوں پر سرپلس پاور پیکج متعارف کرایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں کیپٹو پاور صارفین کو قومی گرڈ میں منتقل کیا جا چکا ہے۔
پاور ڈویژن نے انٹیگریٹڈ جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (IGCEP) پر بھی وضاحت کی اور کہا کہ غیر تکنیکی عوامل کے باعث اس کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ اگر منصوبوں کی شمولیت کم لاگت تجزیے، طلب کے درست تخمینوں اور گرڈ انضمام کے مطالعات کے بجائے دیگر عوامل پر مبنی ہو تو منصوبہ بندی کا عمل غیر جانبدار نہیں رہتا۔ ماضی میں ترسیلی سہولیات کی بروقت دستیابی اور کمٹڈ منصوبوں کی مناسب جانچ پڑتال کے بغیر بجلی کے توسیعی منصوبوں کی منظوری دی جاتی رہی۔
حکومت کی جانب سے جمع کرایا گیا IGCEP 2025-35 پاور سیکٹر کی منصوبہ بندی میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت 7,967 میگاواٹ کے مہنگے اور غیر ضروری پیداواری منصوبوں کو خارج کر دیا گیا ہے اور کم لاگت، مقامی اور قابل تجدید توانائی کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس منصوبے کے نتیجے میں 17 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی متوقع بچت ہوگی۔
پاور ڈویژن کے مطابق ترسیلی نظام کے منصوبوں میں تاخیر کی بنیادی وجوہات میں رائٹ آف وے کے مسائل اور خریداری کے عمل میں رکاوٹیں شامل تھیں۔ وزارت توانائی نے منصوبہ جاتی ترقی کے عمل کو ایک خودمختار کمپنی، انرجی انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (EIDMC)، کو منتقل کر دیا ہے جو نہ صرف منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ذمہ دار ہوگی بلکہ پالیسی اور ریگولیٹری اصلاحات بھی متعارف کرائے گی۔
ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے نقصانات سے متعلق پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ ریگولیٹری اہداف سے زائد نقصانات کی ذمہ داری کمپنیوں پر ہونی چاہیے، نہ کہ صارفین پر منتقل کی جائے یا سرکلر ڈیٹ میں شامل کی جائے۔ ڈسکوز کی نااہلی نہ صارفین پر ڈالی جاتی ہے اور نہ ہی اسے بنیاد بنا کر آئی پی پیز کو ادائیگیاں روکی جاتی ہیں، بلکہ یہ نقصانات مالیاتی سپورٹ کے ذریعے بجٹ میں شامل کیے جاتے ہیں۔ ڈسکوز کے بورڈز کی ازسرِنو تشکیل سے گورننس میں بہتری اور نقصانات میں کمی کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں مالی بوجھ اور ٹیکس دہندگان پر دباؤ کم ہوگا۔ پاور ڈویژن کے مطابق رواں سال مالی بوجھ میں 400 ارب روپے کی کمی ہو چکی ہے، جو 1,287 ارب روپے سے کم ہو کر 893 ارب روپے رہ گیا ہے۔
غلط ریڈنگ پر مبنی بجلی کے بلوں کو عدم ادائیگی کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے پاور ڈویژن نے بتایا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے “اپنی میٹر اپنی ریڈنگ” ایپ لانچ کی گئی ہے، سمارٹ میٹرز کی تنصیب جاری ہے اور حکومت 40 ارب روپے سے زائد کی اوور بلنگ صارفین کو واپس کر چکی ہے۔ کمزور وصولیوں کو سرکلر ڈیٹ میں اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا گیا، تاہم مالی سال 2025 میں وصولیاں 92.4 فیصد سے بڑھ کر 96.6 فیصد ہو گئیں، جس سے اس مد میں اثرات 315 ارب روپے سے کم ہو کر 132 ارب روپے رہ گئے۔ مالی سال 2026 (جولائی تا دسمبر) میں گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید 43 ارب روپے کی بہتری آئی ہے۔ سرکاری محکموں سے وصولیاں وفاقی ایڈجسٹر کے ذریعے 25 فیصد کٹوتی کے ساتھ کی جا رہی ہیں، جبکہ ایک سال میں سرکلر ڈیٹ میں مجموعی طور پر 780 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔
پاور ڈویژن نے نیپرا کی جانب سے ڈیٹا پر اٹھائے گئے سوالات کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام اعداد و شمار بروقت توثیق کے لیے فراہم کیے گئے تھے۔ سرکلر ڈیٹ میں کمی کے بڑے عوامل میں ڈسکوز کے نقصانات میں 193 ارب روپے کی کمی، ایل پی آئی ویور مذاکرات کے ذریعے 260 ارب روپے کی بچت اور معاشی اشاریوں میں بہتری کے باعث 300 ارب روپے سے زائد کی کمی شامل ہے۔ پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ سرکلر ڈیٹ فنانسنگ دسمبر 2025 میں حاصل کی گئی، اس لیے کمی کو اس سے منسوب کرنا درست نہیں۔
ڈیٹ سروس سرچارج (DSS) سے متعلق پاور ڈویژن نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ صارفین پر نیا 3.23 روپے فی یونٹ سرچارج ڈالا گیا ہے۔ حکومت کمی کے اہداف کے مطابق سبسڈی فراہم کر رہی ہے اور آئندہ پانچ سے چھ سال میں سرکلر ڈیٹ کے مکمل خاتمے کے بعد DSS بھی ختم کر دیا جائے گا۔ پاور ڈویژن کے مطابق ماضی میں سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کا کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں تھا۔
کے الیکٹرک سے متعلق مؤقف میں کہا گیا کہ ریگولیٹر نے کے الیکٹرک کو سرکلر ڈیٹ میں اضافے کی ذمہ داری سے بری قرار دیا، حالانکہ ماضی میں کے الیکٹرک نے CPPA کو ادائیگیاں نہ کر کے 640 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ بڑھایا۔ نومبر 2025 تک کے الیکٹرک کے واجبات 300 ارب روپے سے زائد ہیں، جبکہ آسان ریگولیٹری اہداف کے باعث گزشتہ پانچ سال میں کے الیکٹرک کو 500 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دی گئی۔ ڈیٹ سروس سرچارج ملک بھر میں کے الیکٹرک اور ڈسکوز دونوں کے سرکلر ڈیٹ میں اضافے کی وجہ سے نافذ ہے۔
پاور ڈویژن نے کہا کہ ریگولیٹر ایک بار پھر حقائق کی درست ترجمانی میں ناکام رہا، تاہم سرکلر ڈیٹ کا بہاؤ قابو میں ہے اور مجموعی ڈیٹ 2.4 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 1.6 ٹریلین روپے رہ گئی ہے۔ چھ سالہ سرکلر ڈیٹ خاتمے کے منصوبے کے تحت حکومت اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
سمارٹ میٹرنگ کے حوالے سے بتایا گیا کہ 16 لاکھ سے زائد سمارٹ میٹرز نصب ہو چکے ہیں اور کئی ڈسکوز میں کمیونیکیشن دستیابی 90 فیصد سے زائد ہے۔ دسمبر 2026 تک تمام تھری فیز میٹرز کو سمارٹ میٹرز میں تبدیل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق مہنگی بجلی اور طلب میں کمی کے باوجود مارچ 2024 سے دسمبر 2025 تک اوسط ٹیرف 53.04 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 42.27 روپے فی یونٹ ہو چکا ہے، جبکہ مزید کمی کے لیے مراعاتی پیکجز، ٹیرف ری نیگوشی ایشن اور قرضوں کی ری فنانسنگ پر کام جاری ہے۔
ISMO کی صلاحیت کے حوالے سے پاور ڈویژن نے بتایا کہ نیپرا نے مکمل جانچ پڑتال کے بعد ISMO کو لائسنس جاری کیا، اپریل 2025 سے اس کا بورڈ تشکیل پا چکا ہے اور آکشن پلیٹ فارم کے لیے ماہرین کی بھرتی بھی مکمل ہو چکی ہے۔
آخر میں پی پی ایم سی اور ڈسکوز کی خودمختاری پر وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ PPMC کا مقصد مرکزی آپریشنل کنٹرول نہیں بلکہ تکنیکی نگرانی اور رپورٹنگ ہے، جبکہ ڈسکوز آزاد بورڈز کے تحت خودمختار طور پر کام کر رہی ہیں۔ PPMC وزارت توانائی کا تکنیکی ادارہ ہے جو قومی بجلی منصوبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔



مزیدپڑھیں:اتنی افواہوں کے بعد اب خود بھی شادی کا دل چاہتا ہے، ہانیہ عامر

