حیدرآباد(ویب ڈیسک) حیدرآباد کے ٹی اے بی ایس کالج آف سائنس (گرلز سیکشن) کی طالبات نے انٹرپرائز چیلنج پاکستان کے نویں مرحلے میں اپنے اختراعی منصوبے ’’نیبیولا وولٹ‘‘ کے ذریعے کامیابی حاصل کر لی۔ یہ منصوبہ دھند سے بجلی پیدا کرنے والا ایک حفاظتی آلہ ہے، جو دھند زدہ علاقوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس منصوبے میں ہائیڈرو فیلک میش استعمال کی گئی ہے جو دھند کو جذب کرتی ہے، جبکہ پانی کے قطروں سے حاصل ہونے والی توانائی کو ٹریبو الیکٹرک نینو جنریٹرز کے ذریعے صاف بجلی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
یہ کم لاگت ٹیکنالوجی اسٹریٹ لائٹس، ٹریفک سگنلز اور سڑک کنارے موجود انفرااسٹرکچر کو بجلی فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، جس سے حدِ نگاہ بہتر ہوگی، ٹریفک حادثات میں کمی آئے گی اور توانائی کے اخراجات بھی کم ہوں گے۔
مقابلے کا قومی فائنل 24 جنوری کو کراچی میں منعقد ہوا، جس کی میزبانی برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم نے کنگز ٹرسٹ انٹرنیشنل اور سیڈ وینچرز کے تعاون سے کی۔
مزیدپڑھیں:پاکستان کاٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میںشرکت کافیصلہ

