Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

نکاح کے نام پر دھوکہ: نوسربازدلہن نوجوان کےلاکھوں روپےلوٹ کر فرار

کراچی(ویب ڈیسک)نکاح کے نام پر دھوکہ دہی کا ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں کراچی سے شادی کے لیے آنے والا نوجوان اپنے والدین سمیت فراڈ کا شکار ہو گیا۔

پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ جی او آر کی حدود جمالی پاڑہ کچی آبادی میں پیش آیا۔ متاثرہ نوجوان محمد عثمان ولد رمضان راجپوت، جو کراچی کے علاقے سیکٹر 13 نواب کالونی بلدیہ ٹاؤن کا رہائشی ہے، نے پولیس کو بتایا کہ اس کی والدہ اس کے لیے رشتہ تلاش کر رہی تھیں۔

مدعی کے مطابق رانی نامی خاتون، زوجہ عباس چانڈیو، نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں حیدرآباد بلا کر ندا نامی لڑکی سے شادی طے کروا دی۔

طے شدہ تاریخ پر محمد عثمان اپنے والدین اور بھائیوں کے ہمراہ حیدرآباد پہنچا جہاں رانی کے گھر نکاح کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔

متاثرہ نوجوان کا کہنا ہے کہ غربت کا ذکر کرنے پر لڑکی کے مبینہ والدین نے شادی کے اخراجات اور ضروری سامان کے لیے ڈھائی لاکھ روپے نقد طلب کیے، جو انہیں ادا کر دیے گئے۔ اس کے علاوہ دلہن کے لیے تقریباً دو لاکھ روپے مالیت کے نئے کپڑے بھی خرید کر دیے گئے۔

تاہم رقم اور کپڑے لینے کے کچھ دیر بعد ہی لڑکی اور اس کے ساتھی اچانک گھر سے غائب ہو گئے۔ متاثرہ خاندان نے جب علاقے میں معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ لڑکی اور اس کے ساتھی مبینہ طور پر ایک فراڈ گروہ کا حصہ ہیں جو نکاح کے نام پر لوگوں کو اسی طرح دھوکہ دیتے ہیں۔

پولیس نے محمد عثمان کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے اور تین خواتین کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ اس فراڈ میں ملوث مزید پانچ افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:کیا ملازمین کو زکوٰۃ کی رقم سے افطاری کروائی جاسکتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں