Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پاکستان بحیرہ احمر کے راستے تیل درآمد کرنے لگا

Pakistan importing oil via Red Sea route

پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر کے راستے تیل درآمد کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا ایک جہاز سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع پہنچ چکا ہے۔ یہ جہاز تقریباً تہتر ہزار ٹن خام تیل لے کر جمعرات کو کراچی کے لیے روانہ ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث پاکستان کو متبادل راستہ اختیار کرنا پڑا۔

پی این ایس سی کے جہاز تیل لے کر روانہ

پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا ایک اور جہاز شالامار فجیرہ کی بندرگاہ سے تیل لوڈ کر چکا ہے۔ یہ جہاز بھی کراچی کی طرف سفر کر رہا ہے۔

تاہم خطے میں جاری صورتحال کے باعث بعض جہاز متاثر ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی این ایس سی کے دو جہاز مختلف مقامات پر رکے ہوئے ہیں۔

آبنائے ہرمز میں رکاوٹ اور عالمی اثرات

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ دنیا کے بڑے حصے کا خام تیل اور مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد اس راستے سے جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

اس صورتحال کے باعث دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا

عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان میں بھی سامنے آئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے حالیہ جائزے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔

پیٹرول کی نئی قیمت تین سو اکیس روپے سترہ پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت تین سو پینتیس روپے چھیاسی پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

تیل بردار جہاز پاکستان پہنچ رہے ہیں

ادھر حکام کے مطابق تیل کی ترسیل جاری ہے۔ منگل کے روز چار پیٹرول بردار جہاز پورٹ قاسم پہنچے۔

تقریباً سینتیس ہزار ٹن پیٹرول پہلے ہی اتارا جا چکا ہے۔ جبکہ مزید پچاس ہزار ٹن پیٹرول کی منتقلی جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر کے راستے تیل کی درآمد سے پاکستان میں ایندھن کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں