Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

ہاؤسنگ فنانس اسکیم کی شرحِ سود کم، حکومت کا سستے گھروں کے لیے بڑا اقدام

ہاؤسنگ فنانس اسکیم کی شرحِ سود

حکومت نے ہاؤسنگ فنانس اسکیم کی شرحِ سود کم کر دی ہے تاکہ ملک میں سستے گھروں کی فراہمی کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کی سفارش پر کیا گیا جس کی بعد میں وفاقی کابینہ نے بھی منظوری دے دی۔ وزارتِ ہاؤسنگ و تعمیرات نے اس حوالے سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا۔

نئے فیصلے کے مطابق ہاؤسنگ فنانس اسکیم کی شرحِ سود اب پانچ فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے پہلے بعض درخواست گزاروں کے لیے شرح زیادہ تھی۔

حکام کے مطابق ہاؤسنگ فنانس اسکیم کی شرحِ سود کم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ شہری اپنے گھر کے مالک بن سکیں۔ یہ سہولت خاص طور پر پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے رکھی گئی ہے۔

اس اسکیم کے لیے اہلیت کے قواعد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ درخواست دینے والا پاکستانی شہری ہونا چاہیے، اس کے پاس قومی شناختی کارڈ ہونا ضروری ہے اور اس کے نام پر پہلے سے کوئی گھر نہیں ہونا چاہیے۔

اس منصوبے کے تحت شہری گھر یا فلیٹ خریدنے کے لیے قرض لے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے پلاٹ پر گھر بنانے یا پلاٹ خرید کر بعد میں تعمیر کرنے کے لیے بھی مالی معاونت حاصل کی جا سکتی ہے۔

اس اسکیم میں پانچ مرلہ تک کے گھر اور پندرہ سو مربع فٹ تک کے فلیٹ شامل کیے گئے ہیں۔

قرضوں کی فراہمی میں مختلف مالیاتی ادارے حصہ لیں گے جن میں کمرشل بینک، اسلامی بینک، مائیکرو فنانس بینک اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی شامل ہیں۔

نئے قواعد کے مطابق قرض کی زیادہ سے زیادہ حد ایک کروڑ روپے تک کر دی گئی ہے جبکہ ادائیگی کی مدت بیس سال تک رکھی گئی ہے۔

حکومت پہلے دس سال تک مارک اپ سبسڈی فراہم کرے گی جس سے ہاؤسنگ فنانس اسکیم کی شرحِ سود کم رکھنے میں مدد ملے گی۔

قرض کی مالی ساخت نوے اور دس کے تناسب پر ہوگی۔ یعنی نوے فیصد رقم بینک فراہم کرے گا جبکہ دس فیصد درخواست گزار ادا کرے گا۔

حکومت اس اسکیم کے تحت بقایا قرضوں کے پورٹ فولیو پر دس فیصد تک خطرے کی ذمہ داری بھی اٹھائے گی۔

حکام کے مطابق آئندہ چار برسوں میں پانچ لاکھ گھروں کی مالی معاونت کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس میں مالی سال 2025-26 میں پچاس ہزار، 2026-27 میں ایک لاکھ، 2027-28 میں ڈیڑھ لاکھ اور 2028-29 میں دو لاکھ گھروں کا ہدف شامل ہے۔

اس پروگرام پر عمل درآمد اسٹیٹ بینک پاکستان کرے گا جبکہ پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن اور دیگر مالیاتی ادارے بھی اس میں شریک ہوں گے۔

اعلامیے کے مطابق جن قرضوں پر پہلے آٹھ فیصد شرح سود لاگو تھی انہیں بھی کم کر کے ہاؤسنگ فنانس اسکیم کی شرحِ سود پانچ فیصد کر دیا جائے گا۔

حکومت نے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک اور تمام متعلقہ بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس اسکیم پر فوری عملدرآمد کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

یہ بھی پڑھیں