پاکستان میں بڑے ہیکنگ حملے کے بعد تین سو سرکاری ویب سائٹس کا سائبر سیکیورٹی آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرکاری اداروں کے آن لائن نظام کو مزید محفوظ بنانا ہے۔
تین سو سرکاری ویب سائٹس کا سائبر سیکیورٹی آڈٹ نیشنل سرٹ کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ اس قومی سطح کے جائزے کا مقصد سرکاری ویب نظام میں موجود سیکیورٹی کمزوریوں کی نشاندہی کرنا ہے۔
حکام نے بتایا کہ اس آڈٹ میں وزارتوں، ماتحت اداروں اور دیگر سرکاری اداروں کی ویب سائٹس شامل ہیں۔ اب تک دو سو اسی ویب سائٹس کی سیکیورٹی جانچ مکمل کی جا چکی ہے۔
باقی بیس ویب سائٹس کا جائزہ جاری ہے۔ اس طرح تین سو سرکاری ویب سائٹس کا سائبر سیکیورٹی آڈٹ تقریباً ترانوے فیصد مکمل ہو چکا ہے۔
متعلقہ وزارتوں کو سیکیورٹی رپورٹس بھیج دی گئی ہیں تاکہ فوری اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔
جائزے کے دوران سرورز، سسٹمز اور ویب ایپلی کیشنز میں مختلف نوعیت کی کمزوریاں سامنے آئیں۔ ان میں انتہائی اہم، زیادہ، درمیانی اور کم درجے کی خامیاں شامل ہیں۔
سرکاری اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے سائبر سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔ اس کے ساتھ سافٹ ویئر کی تازہ کاری، ویب ایپلی کیشن فائر وال کا استعمال اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بعض ویب سائٹس میں پرانے نظام، کمزور پاس ورڈز یا غیر محفوظ ڈیٹا بیس بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے سفارشات جاری کر دی گئی ہیں۔
کچھ صورتوں میں آڈٹ مکمل ہونے کے بعد بعض ویب سائٹس کو عارضی طور پر بند یا اپ گریڈ بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ مستقبل میں سائبر حملوں سے بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔




