اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پیٹرولیم مصنوعات کے بعد اب ایل پی جی (ایل پی جی) میں بھی خطرناک ملاوٹ کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق مارکیٹ میں ایل پی جی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ (سی او ٹو) کی مکسنگ کر کے اسے فروخت کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے سنگین حادثات رونما ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ایل پی جی کی فی کلو قیمت 250 روپے ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ‘سی او ٹو’ محض 20 روپے کلو دستیاب ہے، اسی قیمت کے بڑے فرق اور سستی ہونے کے باعث منافع خور ایل پی جی باؤزرز میں وزن پورا کرنے کے لیے اس کی ملاوٹ کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ سے پنجاب اور خیبر پختونخوا آنے والے باؤزرز میں بڑے پیمانے پر یہ مکسنگ کی جا رہی ہے، جو سلنڈر لگاتے وقت گیس کے فوری اخراج اور دھماکوں کا باعث بن سکتی ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے کمپنیوں سے تمام ایل پی جی باؤزرز کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مکسنگ میں ملوث پلانٹس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ایل پی جی پلانٹس کے لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیے جائیں گے۔
مزیدپڑھیں:ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے پر ٹول ٹیکس عائد کرنے پر غور

