پاکستان نے کاسا 1000 منصوبے میں 27 ملین ڈالر کی بچت کامیاب مذاکرات کے بعد حاصل کی۔ اس فیصلے سے منصوبے کے اضافی اخراجات کم ہوگئے ہیں۔
یہ اہم اجلاس 9 اور 10 مارچ 2026 کو سویڈن میں ہوا۔ پاکستانی وفد میں توانائی ڈویژن اور نیشنل گرڈ کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔
اس سے پہلے ٹھیکیدار کمپنی نے پاکستان سے تقریباً 32.9 ملین ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ رقم منصوبے میں تاخیر کے دوران دیکھ بھال کے اخراجات کے لیے تھی۔
مذاکرات کے بعد فریقین نے اخراجات کو 9 ملین ڈالر تک محدود کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ رقم پاکستان اور تاجکستان دونوں کے لیے فروری 2028 تک کافی ہوگی۔
اس فیصلے سے پاکستان نے کاسا 1000 منصوبے میں 27 ملین ڈالر کی بچت حاصل کی۔ ساتھ ہی اہم بجلی کے نظام کو محفوظ رکھنے کا عمل بھی جاری رہے گا۔
یہ منصوبہ وسطی ایشیا سے جنوبی ایشیا تک بجلی کی فراہمی کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ افغانستان کی صورتحال کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔
اب توقع ہے کہ یہ منصوبہ ستمبر 2027 تک مکمل ہو جائے گا۔ اس دوران عارضی انتظامات جاری رہیں گے۔
معاہدے کے مطابق ضرورت پڑنے پر تین ماہ کی توسیع بھی ممکن ہے، جس میں معمولی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

