پشاور(نیوز ڈیسک)وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے 9 اپریل کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان کردیا ہے۔
نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا کہنا کہ تمام قانونی اور آئینی راستے اپنا کر دیکھ لیے اب صرف احتجاج کا راستہ بچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جلسے کے لیے این او سی نہ دیا گیا تو جہاں روکیں گے وہیں جلسہ شروع کردیا جائے گا۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاق کی غلط پالیسیوں سے ملک میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں، وفاقی حکومت عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کبھی ایسی پالیسی کا حصہ نہیں بنے گی جس سے عوام کا نقصان ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ ان کی تین سے چار ملاقاتیں ہو چکی ہیں جن میں انہوں نے اپنا اور عوام کا مقدمہ پیش کیا، تاہم ان کے مطابق وفاقی حکومت انہیں ان کا حق نہیں دے رہی اور این ایف سی ایوارڈ میں بھی صوبے کا حصہ غیر آئینی طور پر 2018 سے اب تک تقسیم کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں کا مقصد خیبرپختونخوا کے مسائل کو اجاگر کرنا تھا لیکن حکومت عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت اب تک پندرہ ارب روپے اپنے وسائل سے خرچ کر چکی ہے۔
انہوں نے موقف اپنایا کہ گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب کے باوجود وفاق نے ایک روپیہ بھی فراہم نہیں کیا اور صوبائی بجٹ میں بھی کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عام آدمی کی آواز اٹھانا ان کی ذمہ داری ہے، جبکہ انہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی سے بھی اختلاف کیا۔
مزیدپڑھیں:شہرقائدمیں بارش کے بعد بجلی کے ساتھ گیس کی فراہمی بھی بند ہوگئی


