Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

خطے کے امن کو خطرہ، پاکستان نے بھارت کے خلاف عالمی فورم پر آواز اٹھا دی

پاکستان نے دریائے سندھ(Indus Waters Treaty) کے پانی سے متعلق معاہدے کی معطلی پر عالمی سطح پر بڑا سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری نوٹس اور عملی اقدام کا مطالبہ کر دیا ہے، اسے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا تحریر کردہ خط سلامتی کونسل کے صدر اور بحرین کے سفیر جمال فارس الرویعی کے حوالے کیا۔ خط میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بھارت کے اقدامات کا فوری نوٹس لے اور اس معاملے پر مؤثر کردار ادا کرے۔

خط کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے اور اس کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں شدید انسانی بحران بھی جنم لے سکتا ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو فوری طور پر معاہدے کی مکمل بحالی، تکنیکی تعاون کی بحالی اور پانی کے ڈیٹا کے تبادلے کو دوبارہ شروع کرنے کا پابند بنایا جائے۔ خط میں زور دیا گیا ہے کہ بھارت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نیک نیتی کے ساتھ پورا کرے۔

مزیدپڑھیں:ایچ بی ایل پی ایس ایل، محمد عامر اور فہیم اشرف کے درمیان گرما گرمی

مزید کہا گیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں اور ثالثی اقدامات میں مصروف ہے، بھارت کی جانب سے مسلسل بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈا جاری رکھا گیا ہے۔

پاکستان کے مندوب نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ بھارت کی آبی پالیسیز اور حالیہ اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور یہ صورتحال کسی بڑے انسانی المیے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

خط میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے اور اس کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ناگزیر ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے بھارت کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری پر مجبور کرے اور ایسے اقدامات سے باز رکھے جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں