Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

اسلام آباد میں بڑے مالیاتی سکینڈل کا انکشاف

اسلام آباد اور راولپنڈی میں مبینہ طور پر اربوں روپے کے ایک بڑے مالیاتی سکینڈل(Financial Scandal) کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے نام پر سرمایہ کاری اسکیم چلا کر شہریوں اور بااثر افراد سے بھاری رقوم اکٹھی کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک میں 12 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی، جبکہ اسکیم میں سرکاری افسران، کاروباری شخصیات اور مختلف پٹرول پمپس کے مالکان کے ملوث ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو یہ باور کرایا جاتا تھا کہ پٹرول ذخیرہ کر کے قیمتوں میں اضافے سے غیر معمولی منافع حاصل کیا جا رہا ہے، جبکہ ہر پندرہ دن بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کو سرمایہ کاری کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔

تحقیقات سے جڑے ذرائع کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ میں گریڈ 18 سے اوپر کے بعض افسران کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں، تاہم کئی افسران نے مبینہ طور پر اپنی شناخت چھپانے کے لیے فرنٹ مین استعمال کیے۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کے متعدد بڑے پٹرول پمپس اس نیٹ ورک کا حصہ تھے، جن میں بعض پمپس حساس اور وی آئی پی علاقوں کے قریب واقع تھے۔

اس پورے مبینہ نیٹ ورک کے مرکزی کردار کے طور پر عادل اکرام کا نام سامنے آیا ہے، جن کے خلاف اسلام آباد اور دیگر شہروں میں متعدد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مارگلہ، کوہسار، رمنا اور ہری پور سمیت مختلف تھانوں میں کیسز زیر تفتیش ہیں۔

سوناسستا،فی تولہ قیمت میں کتنی کمی ہوگئی

رپورٹس کے مطابق متاثرین کی جانب سے کروڑوں روپے مالیت کے مقدمات درج کروائے گئے ہیں، جن میں ایک سرمایہ کار محمد سلمان نے 61 کروڑ روپے، مبشر احمد نے 16 کروڑ 80 لاکھ روپے جبکہ عمر خان نے 10 کروڑ 70 لاکھ روپے کے دعوے دائر کیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ابتدا میں سرمایہ کاروں کو باقاعدگی سے بھاری منافع دیا جاتا رہا تاکہ مزید افراد کو راغب کیا جا سکے، تاہم بعد ازاں اچانک ادائیگیاں بند ہو گئیں اور اربوں روپے پھنسنے کا انکشاف سامنے آیا۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسلام آباد کے ایک نجی جم کا منیجر مبینہ طور پر سرمایہ کار لانے میں سرگرم کردار ادا کرتا رہا اور اپنے کلائنٹس کو اس اسکیم میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرتا تھا۔ بعد میں اسی شخص کی جانب سے عادل اکرام کے خلاف ایک مقدمہ درج کروائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by ABN News (@abnnewspk)

ذرائع کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک میں 20 سے زائد کمپنیوں کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے، جن کے ذریعے رقوم کی منتقلی اور مالی لین دین کو خفیہ رکھنے کا نظام چلایا جاتا تھا۔

تحقیقات کے دوران گلبرگ کے ایک فارم ہاؤس کی مشکوک ٹرانسفر، ایف سیون کی ایک قیمتی پراپرٹی کی مبینہ منتقلی اور ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں خطیر سرمایہ کاری کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بلیو ایریا کے ایک منی چینجر کا نام بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ مبینہ طور پر بڑی مقدار میں رقوم سعودی عرب اور اسپین منتقل کیے جانے کے شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مبینہ منی لانڈرنگ، غیر قانونی سرمایہ کاری اور بیرون ملک رقوم کی منتقلی کے پہلوؤں پر بھی تحقیقات کر رہے ہیں، جبکہ ذرائع کے مطابق عادل اکرام اس وقت گرفتار ہیں اور مزید اہم گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں