اسلام آباد: سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں امن، قانون کی حکمرانی اور جمہوری عمل کا تسلسل ناگزیر ہے، جبکہ جتھہ کلچر کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
روزنامہ اوصاف اور اے بی این نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ ریاستی رٹ ہر قیمت پر قائم رہنی چاہیے اور آئین و قانون کے ہوتے ہوئے کسی غیر قانونی طرز عمل کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق تھیں کہ کسی معصوم جان کا ضیاع نہیں ہونا چاہیے اور ریاستی اداروں کی عملداری ہر صورت برقرار رہنی چاہیے۔ ان کے مطابق پرامن اور ذمہ دار شہریوں سے مذاکرات کے دروازے کھلے رہ سکتے ہیں، تاہم کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کی روایت قائم نہیں ہونی چاہیے۔
سردار عتیق احمد خان نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی حق خودارادیت کے اصول پر قائم ہے اور پاکستان نے ریاست جموں و کشمیر کے کسی حصے کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مہاجرین کے ووٹ اور اسمبلی نشستیں مسئلہ کشمیر کے بنیادی مؤقف سے جڑی ہوئی ہیں، اس لیے ان میں کسی قسم کی تبدیلی یا مداخلت ایک “ریڈ لائن” تصور کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر مہاجرین کو ان کے ووٹ کے حق سے محروم کیا گیا تو اس سے پاکستان کے سفارتی اور سیاسی مؤقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مضبوط ہے کیونکہ پاکستان مسلسل کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا آیا ہے۔
صدر مسلم کانفرنس نے بروقت انتخابات کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری عمل کا تسلسل ریاستی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سڑکوں اور چوکوں پر فیصلوں کی روایت جمہوری اداروں کو کمزور کرتی ہے اور کسی غیر آئینی صورتحال کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
سردار عتیق احمد خان نے حالیہ واقعات میں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے امن و امان کے قیام اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کی اپیل بھی کی۔

