Search
Close this search box.
منگل ,16 جون ,2026ء

سینیٹر دنیش کمار نے سودی نظام اور بجٹ پر سوالات اٹھا دیے

اسلام آباد: سینیٹر دنیش کمار نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مالیاتی نظام میں سود کی ادائیگی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے اور پاکستان کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے۔

سینیٹ کے اجلاس کے دوران سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ قرآن پاک میں سود سے اجتناب کی واضح ہدایات موجود ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں قومی وسائل کا بڑا حصہ سودی ادائیگیوں کی نذر ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو ملکی معیشت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج قرار دیا۔

انہوں نے اپنی تقریر کے دوران سود سے متعلق قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایسے معاشی ماڈل کی جانب بڑھنا چاہیے جو پائیدار ترقی اور مالی استحکام کو یقینی بنا سکے۔

دنیش کمار نے ایران سے پیٹرول کی غیر قانونی آمد و رفت کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں کے لوگ معاشی مجبوریوں کے باعث اس کاروبار سے وابستہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایران سے پیٹرول درآمد کرنے کے لیے قانونی اور منظم طریقہ کار متعارف کرایا جائے تاکہ سرحدی علاقوں کے عوام کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آسکیں۔

سینیٹر نے خطے کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سفارتی پیش رفت سے کشیدگی میں کمی آئی ہے، جس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت مستقبل میں ایسے فیصلے کرے گی جو عوامی مشکلات میں کمی اور قومی معیشت کے استحکام کا باعث بنیں گے۔

یہ بھی پڑھیں