اسلام آباد (رضوان عباسی )آزاد کشمیر میں آئندہ انتخابات سے قبل سیاسی درجۂ حرارت تیزی سے بڑھ گیا ہے، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر نے انتخابی میدان میں سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے عملی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔
قائدِ حزبِ اختلاف شاہ غلام قادر کی درخواست پر آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے بڑا نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے کارروائی شروع کر دی ہے۔
پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے مبینہ تبادلوں اور تقرریوں پر سوالات اٹھ گئے ہیں، جبکہ جواب طلبی کے بعد سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا ہے۔ انتخابات سے قبل ترقیاتی پیکجز اور انتظامی فیصلوں پر بھی تنازع سامنے آ گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے شاہ غلام قادر کی درخواست پر باضابطہ کارروائی شروع کرتے ہوئے حکومت سے تین روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتخابی شیڈول کے اعلان سے قبل تبادلے، تقرریاں اور ترقیاتی اعلانات “پری پول ریگنگ” کے مترادف ہیں۔
شاہ غلام قادر نے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ اقدامات الیکشن ایکٹ 2020 اور ضابطۂ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہیں، لہٰذا حکومت سے فوری وضاحت طلب کی جائے۔
الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعظم کو ہدایات جاری کرتے ہوئے فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ہر صورت یقینی بنائے جائیں گے، اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔




