اسلام آباد(نیوزڈیسک) پنجاب فوڈ اتھارٹی (PFA) کی ٹیموں نے 884 فوڈ آؤٹ لیٹس کا معائنہ کیا، موٹر وے سروس ایریاز پر مختلف کھانے پینے کی دکانوں کی چیکنگ کی گئی تاکہ مسافروں کے لیے صحت مند اور معیاری خوراک کو یقینی بنایا جا سکے۔فوڈ اتھارٹی ٹیموں کاکھانے کے معیار اور حفظان صحت کو جانچنے کیلئے کیفے، ریسٹورنٹس، ٹک شاپس اور دیگر فوڈ آؤٹ لیٹس کا دورہ کیا۔
کچن اور ان کے دیگر حصوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔انسپکشن کے نتیجے میں پانچ معروف ریسٹورنٹس بند کردیئے۔ 132 فوڈ بزنس آپریٹرز مجموعی طور پر 2.575 ملین روپے جرمانہ کیا گیا جبکہ 682 دیگر کو بہتری کیلئے وارننگ نوٹس جاری کردیئے ۔
حکام نے 40 لیٹر غیر معیاری خوردنی تیل، 7 من میعاد ختم ہونے والے اسنیکس اور بھاری مقدار میں مشروبات بھی ضبط کرلئے۔ ڈائریکٹر جنرل محمد عاصم جاوید نے وضاحت کی کہ مختلف شاپس کی بندش کی وجہ میعاد ختم ہونے والے کولڈ ڈرنکس، اسنیکس اور فروخت کے لیے دیگر اشیاء کی نمائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے مالکان ضروری دستاویزات فراہم کرنے سے قاصر رہے اور حفظان صحت کے حالات کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔پنجاب پیور فوڈ ریگولیشنز کی خلاف ورزیوں پر جرمانے جاری کیے گئے، اور انتباہی نوٹس جاری کیے گئے، دکانوں کو حفظان صحت کے معیار کو بہتر بنانے اور معمولی مسائل کو حل کرنے کی ہدایت کی۔
معائنہ کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ مسافروں کو پیش کیا جانے والا کھانا ان ضوابط کے مطابق صفائی اور حفاظتی معیارات پر پورا اترتا ہے۔پی ایف اے وزیر اعلیٰ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جی ٹی روڈ، بس ٹرمینلز، ریلوے اسٹیشنز اور موٹروے سروس ایریاز پر فوڈ آؤٹ لیٹس کا بھی معائنہ کیا جارہا ہے۔ ان مقامات پر فروخت ہونے والی کھانے پینے کی اشیاء کو PFA سے منظور شدہ ہونا ضروری ہے۔
ڈائریکٹر جنرل عاصم جاوید نے مزیدہدایت کی کہ خوراک کی مصنوعات صرف PFA کے لائسنس یافتہ سپلائرز سے حاصل کریں اور متنبہ کیا کہ جعلی اور ملاوٹ شدہ خوراک فروخت کرنیوالوں کیخلاف اتھارٹی کا کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔
انہوں نے M1، M2 اور M3 موٹر ویز کے ساتھ کھانے پینے کی دکانوں پر زور دیا کہ وہ کھانے کے معیار کو بہتر بنائیں، اور خبردار کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مسافروں کی بھی حوصلہ افزائی کی کہ وہ خریداری سے پہلے کھانے کے معیار کی جانچ کریں اور کسی بھی مسئلے کی اطلاع PFA ہیلپ لائن پر دیں۔
اسلام آباد میں کمرشل گاڑیوں کو الیکٹرک پر منتقل کرنے کا فیصلہ


