Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن دینے کے حوالے سے بڑا فیصلہ آگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن دینے کے حوالے سے بڑا فیصلہ آگیا، سپریم کورٹ آف پاکستان نے والد کی وفات کے بعد طلاق یافتہ بیٹی کو پنشن نہ دینے والے امتیازی سرکلر کو کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس عائشہ ملک کا تحریری کردہ 10 صفحات کا فیصلہ جاری۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بیٹی کی پنشن شادی کی حیثیت پر نہیں، حق کی بنیاد پر دی جائے گی، بیٹی کی پنشن کے لیے طلاق کا وقت (والد کی وفات سے پہلے یا بعد) غیر متعلقہ ہے۔ پنشن سرکاری ملازم کا قانونی حق ہے، خیرات نہیں۔ پنشن کا حق اہل خانہ کو منتقل ہوتا ہے اور اس میں تاخیر جرم ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ خواتین کی پنشن کا انحصار صرف مالی ضرورت پر ہونا چاہیے، نہ کہ شادی کی حیثیت پر۔ سندھ حکومت کا 2022 کا امتیازی سلوک والا سرکلر غیر قانونی اور آئین کے خلاف ہے۔ پاکستان کا بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کے باوجود صنفی مساوات میں بدترین رینکنگ پر ہونا باعث افسوس ہے۔

خیال رہے کہ درخواست گزار سورۃ فاطمہ ( طلاق یافتہ بیٹی) نے والد کی پنشن دوبارہ شروع کرنے کی درخواست دی تھی۔ سندھ ہائیکورٹ کے لاڑکانہ بینچ نے درخواست گزار سورۃ فاطمہ کی پنشن کی منظوری دی تھی۔

سندھ ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف سندھ حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ پنشن صرف ایسی بیٹی کو مل سکتی ہے جو والد کی وفات کے وقت طلاق یافتہ ہو۔

سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ دیا کہ پنشن خیرات یا بخشش نہیں بلکہ آئینی اور قانونی حق ہے۔ بیٹی کی پنشن کو شادی کی حیثیت سے مشروط کرنا آئین کے آرٹیکل 9، 14، 25 اور 27 کی خلاف ورزی ہے۔ سرکلر قانون کی تشریح نہیں بلکہ اس میں غیر قانونی شرط شامل کر رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ پنشن کا حق بنیادی آئینی حق ہے، سرکاری تاخیر جرم کے زمرے میں آتی ہے۔ عورتوں کو مالی طور پر خودمختار تصور نہ کرنا آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں۔سندھ میں کم از کم ماہانہ اُجرت 40 ہزار روپے مقرر، نوٹیفکیشن جاری

یہ بھی پڑھیں