اسلام آباد ( اوصاف نیوز) قانون دان فیصل چوہدری نے اے بی این نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ حکومت کو تمام مسائل باقاعدہ مینج کر کے دیئے جا رہے ہیں ایسا نہیں ہوتا کہ عوامی نمائندے جن کا عوام کے ساتھ براہ راست تعلق ہوتا ہے لیکن ایسا نظر نہیں ہوتا کرپشن بہت زیادہ ہے اس وقت کوئی کام کرپشن کے بغیر نہیں ہو رہا۔
رمضان شوگر مل میں جو ہے میاں برادران کی اولاد بڑی پارٹنرشپ ہے اور اس سے کوئی بھی انکار نہیں کیا جا سکتا اور یہ بڑے پارٹنر ہیں اور شہباز شریف کی فیملی اس میں پارٹنر ہے نواز شریف کی فیملی اس میں نہیں ہے نواز شریف کا خاندان 90 میں پیسے کما کے نکل گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے لازمی اپنے باپ سے ملنے کے لیے آئیں گے ابھی جہاں تک ان کے پاکستان انے کا تعلق ہے تو کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیصلے تو اسی ملک میں ہونے ہیں جب ملکی سطح پر آواز نہ سنی جائے تو پھر بین الاقوامی سطح پر بھی رجوع کرنا پڑتا ہے ہم روزانہ بیٹھ کر سطحی مسائل زیر بحث لاتے ہیں دنیا بھر کا تھانے دار امریکہ ہے اس بات کو تو غلط نہیں ثابت کیا جا سکتا میں یہ کہتا ہوں کہ تحریک چلانا ایک سیاسی راستہ ہے۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت جو حکمران بیٹھے ہیں ان میں کوئی سیاسی سوجھ بوجھ نہیں ہے علیمہ خان کو بھی سیاست کا پتہ نہیں ہے مسئلہ یہ ہے پی ٹی آئی میں جس کو سیاست نہیں آتی اس کو عہدے دے دیئے جا تے ہیں ۔
میں اپ کو بتاتا ہوں کہ یہ مسئلہ سیاسی طور پر حل کرنا ہے میں نے عمران خان کو واضح بتا دیا تھا کہ تحریک حصہ ضرور ہوتی ہے لیکن اس وقت موسم ایسا نہیں ہے کہ تحریک نہیں چل سکتی کیونکہ تحریک انصاف اس حوالے سے کوئی خاص متحد نظر نہیں آتے۔ حکومت کی یہ خوش نصیبی ہے کہ انہیں اپوزیشن نالائق ملی ہے
ن لیگ کے راہنما کو ثر کا ظمی نے کہا کہ کوکنگ ائل ایشیا اور انڈونیشیا سے منگوایا جاتا ہے اس میں پر لیٹر عوام پر بوجھ پڑ رہا ہے اس میں صرف بڑا مافیا شامل نہیں چھوٹا مافیا بھی شامل ہے یہ اصل میں عوام کو لوٹ رہے ہیں
کوثر کاظمی نے ایک سوال کے جواب میں مزید کہا کہ یہ مافیا جس کی بات کی جا رہی ہے یہ 70 سال کا مسئلہ ہے کہ جیسا کہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس مافیا سے ٹکرانے کا فیصلہ کر لیا ہے سلمان اور شہباز کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ اس مافیا سے ٹکرائیں گے اور شہباز شریف جس کا نام ہے وہ جو کہتا ہے وہ کر لیتا ہے۔
انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ صرف شوگر ملوں میں میاں فیملی شامل ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔معاملہ یہ ہے کہ جب وزیراعظم نے کہہ دیا ہے تو دیکھیں تو سہی کہ وہ کیا کرے گا جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ان کے شوگر مل شروع سے مشہور ہے۔
کوثر کاظمی نے کہا کہ یہ باقاعدہ ایک مہم چلی تھی جس میں میاں فیملی کو بدنا م کرکیا گیا۔حسن نواز کاروبار کر رہے ہیں تو اس پر سب کی نظر ہے یہاں تو زلفی بخاری ہی مان نہیں کرتا لیکن اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔
کوثر کاظمی نے کہا کہ پی ٹی آئی یہ بتائے کہ وہ بات کہاں ہے جب کہتے تھے کہ امریکہ یا ڈونلڈ لو ہمیں کون ہوتا ہے ہدایات دینے والا۔
آپ کیوں کہہ لیں کہ اج یوم تبدیل ہے بات یہ ہے کہ اپ لوگوں کے بچوں کو بہکاؤ کہ روڈ پر ا ٓجاؤ ہنگامے کرو لیکن اپ کے بچوں کو گرم ہوا بھی نہ لگے میں یہ کہتا ہوں کہ جو عوام سے پی ٹی ائی نے باتیں کی ہیں وہ کیسے عوام کو واضح کریں گے کہ یہ کہتے تھے کہ اللہ سے ہی مدد مانگو میرے لیے اللہ ہی کافی ہے لیکن اب یہ امریکہ کے پاس کیوں گھس رہے ہیں ۔
عمران خان کے بچوں کو ان کی امی نہیں بھیج رہی ہے آپ یہ کیا سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے بچے ائیں گے تو انقلاب برپا ہوگا مگر ایسا نہیں ہوا میں بتا رہا ہوں کہ عمران خان کے بچے نہیں آئیں گے وہ امریکہ میں جا کر بول چکے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ آپ ہی ہمارا واحد حل ہے عمران خان ویسے ہی کہتے ہیں کہ میں واحد حل ہوں ایسا نہیں ہے۔
والد کی رہائی مہم کے لیےامریکا جانے والے عمران خان کے بیٹے لندن واپس پہنچ گئےمزید پڑھیں:


