اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اے بی این نیوز کے پروگرام ’’DEBATE AT 8‘‘میں ماہر قانون حافط احسان اللہ نے کہا کہ چترالی والی معاملہ جو شیڈول ہے اس کو سسپینتڈ کردیا گیا ہےاس کا مطلب ہے کہ 62ویں آئینی ترمی کے بعد عدالتیں کام کر رہی ہیں۔
امجد دستی کا پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن شیڈول سسپینڈ کیا ہے وہ بھی 62 ویں آئینی ترمیم سے بعد ہے اس کا مطلب ہے وہ بھی کر رہی ہیں۔ اب جو بھی ریلیف ان کو مل رہا ہے وہ 62 ویں ترمیم کے بعد ہے۔لہذا اس کے کوراپ پر نہیں جانا چاہئے
جیسے کے پولیٹیکل پارٹی کیا پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ کیا پارٹی کے طور پر ایسا ہوا ہے یا Indivisiualکے طورپر آیا ہے اگر پارٹی کے طور پر آیا ہے تو جس نے پارٹی سے فاصلہ کرلیا ہے تو پھر اس نے سمجھا ہوگا کہ ہماری پارٹی رول آف لا کی بجائے ر ول آف ڈسٹرکشن کی طرف چلی گئی ہے ۔
پروگرام اے بی این نیوز ’’DEBATE AT 8‘‘میں ماہر قانون حافط احسان اللہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کو جو پی ٹی آئی والوں نے پورے ملک کے اندر جو کچھ بھی کیا ہے کیا ان کو سزا نہیں ہونی چائے اگر نیاز اللہ نیازی صاحب کہتے ہیں ان کو سزا ملنی چاہیے تو جن کو سزا مل رہی ہے ان کو ملنے دیں ۔
62 ویں آئینی ترمیم کے بعد کوئی ایسا فیصلہ بتائیں جس میں ان کو ریلیف نہ ملا ہو ۔ انہیں پشاور ہائیکورٹ سے بھی ریلیف نہ ملاہو ،انہیں لاہور ہائیکورٹ سے ریلیف نہ ملا ہو،انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نہ ملا ہو،
مزید پڑھیں۔شمالی وزیرستان: سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مکمل کرفیو نافذ، مظاہرین کا قیام امن کا مطالبہ

