اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اے بی این کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘میں گفتگو کرتےہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے کہاکہ پی ٹی آئی نے جو استعفے دیئے ہوئے اس وجہ سے کچھ بھی متاثر نہیں ہوگا پارلیمنٹ اپنا معمول کے مطابق کام کرے گی ابھی جو انہوں نے واک آئوٹ کیا ہے افسوسناک پہلے ہی بہت تھا لیکن زیادہ افسوسناک اس لئے ہے کہ اسمبلی میں اب کیا ہو رہا ہے ۔ملک میں سیلابی صورتحال ہے اس کےاوپر گفتگو ہورہی ہے۔
اے بی این کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘میں گفتگو کرتےہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے کہاکہ اسمبلی کا نارمل ایجنڈا سسپینڈ کر کے اب صرف اورصرف ملک میں جو سیلاب سے تباہی ہورہی ہے اس پر بات ہو رہی ہے کل سپیکر صاحب کی سربراہی میں اسمبلی کا اجلاس ختم کر کے ایک وقت اراکین پارلیمنٹ کا این ڈی ایم اے کا وزٹ بھی کیا اور انہوں نے جواس وقت موسمیاتی تبدیلی ہورہی ہے پوری دنیا میں اور پاکستان میں بھی اس بارےمیں آگاہی بھی دی ۔ تمام اراکین پارلیمنٹ کو این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے دی ۔ملک میں جو آفت آئی ہے اس پر بات ہوئی ہے لیکن اس کا بھی تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیا ہے۔
اس وقت ملک میں سیلابی صورتحال ہے تمام نظریں اس پرہیں چیئرمین این ڈی ایم اے نے اس پر بریفنگ دی ہے اور سب اس پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کر رہے ہیں آگے اس پر کیسے قابو پایا جاسکے گا لیکن اس پر یہ نہیں جا رہے لیکن اسمبلی کے باہر یہ قرار دار کر رہے ہیں یہ سب ڈرامہ ہے
اے بی این کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘میں گفتگو کرتےہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے کہاکہ اسمبلی کا ایجنڈا سسپینڈ کر کے صرف سیلابی صورتحال پر بات ہو رہی ہے اس میں پی ٹی آئی ممبران کو برابر ٹائم بھی دیا گیا ہے ،اسمبلی اجلاس کا آغاز امیر مقام اور اس کے بعد بریگیڈیئر اسلم گھمن جو پی ٹی آئی کے ایم این اے ہیں ان کو موقع دیا گیا ۔
مزید پڑھیں۔ٹک ٹاکر سمیہ حجاب کیس،ملزم حسن زاہد کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

